ایران کے حق دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان نے ایران کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ موجودہ تنازع کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان امریکی حملے کی مذمت کرتا ہے اور فوری، غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق ہے، اور دنیا کو چاہیے کہ اس تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتکاری کو موقع دے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں، اور سلامتی کونسل کے ارکان پر لازم ہے کہ وہ ان قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں۔ گوٹیرش نے کہا کہ اقوام متحدہ ہر اس کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے جو امن کے قیام کے لیے ہو۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے اجلاس میں بتایا کہ امریکی حملے کے نتیجے میں فردو کے جوہری مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہاں بڑے گڑھے دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے کیونکہ اگر امن کو موقع نہ دیا گیا تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔
چین کے اقوام متحدہ میں مندوب نے بھی اپنے بیان میں فریقین، خصوصاً اسرائیل، پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے سفارتی راستہ اب بھی موجود ہے اور اس کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ زور دیا کہ ایران کے انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند