Express News:
2026-07-24@04:54:03 GMT

اقوام متحدہ میں امریکی حملے پر عالمی ردعمل کی ایک جھلک

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

نیویارک:

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران-اسرائیل تنازعے میں امریکی مداخلت پر بحث ہوئی۔

اجلاس میں روس، چین اور پاکستان نے سلامتی کونسل کے 15 ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد منظور کریں۔

اسرائیل کے مستقل مندوب ڈینی ڈینون

ڈینی ڈینون نے کہا کہ پوری دنیا کو شکریہ کہنا چاہیے ٹرمپ کا، جنہوں نے ایران پر حملہ کیا۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ ایران نے مذاکرات کو تھیٹر میں تبدیل کر دیا تھا اور ٹرمپ نے وہ اقدام کیا جس کی ضرورت تھی۔

ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی

ایراوانی نے امریکی کھلی جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ واشنگٹن نے من گھڑت اور بے بنیاد بہانے کے تحت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ حملہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب، عاصم افتخار نے پاکستان کے اصولی مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یواین چارٹر کے مطابق عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتا رہے گا۔

چین کے مستقل مندوب فو کانگ

فو کانگ نے کہا کہ بیجنگ شدید مذمت کرتا ہے امریکی حملوں کی اور چین اس تنازعے میں امن کی کوششوں کو ترجیح دیتا ہے۔ چین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے حملے کی جانچ پڑتال کی جائے۔

روس کے مستقل مندوب ویسلی نیبینزیا

نیبینزیا نے کہا کہ امریکہ نے پینڈورا باکس کھول دیا ہے اور واشنگٹن واضح طور پر سفارتکاری میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس

انتونیو گوتریس نے امریکی حملوں کو ایک ایسی خطے میں ایک خطرناک موڑ قرار دیا جو پہلے ہی بے چین ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری ایک اور تباہی کے چکر کو ختم کرے اور فوری طور پر امن کی کوششوں کو دوبارہ شروع کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مستقل مندوب اقوام متحدہ نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل