دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، اسرائیلی مندوب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایرانی نمائندے کے بیانات کے بعد اسرائیل کے نمائندہ ڈینی ڈینون نے کہا ہے کہ دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
ڈینون نے کہا کہ پورے دنیا کو آج یہاں ریکارڈ پر آ کر شکریہ کہنا چاہیے، شکریہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہ جب بہت سے لوگ ہچکچاہٹ کا شکار تھے، تب انہوں نے اقدام کیا۔
انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کچھ ممالک اور اقوام متحدہ میں موجود افراد نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی مذمت کی ہے، تاہم ان سے سوال کیا کہ جب ایران نے یورینیم کو شہری استعمال کی حد سے کہیں آگے بڑھا کر افزودہ کیا، جب اس نے پہاڑوں کے نیچے ایک قلعہ تعمیر کیا تاکہ ہماری تباہی کی تیاری کرے، تو اس وقت آپ کہاں تھے؟
ڈینی ڈینون نے مزید کہا کہ یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سفارتکاری کی کوشش کی گئی، لیکن ایران نے مذاکرات کو تھیٹر بنا کر ٹائم خریدنے کی حکمت عملی اپنائی تاکہ وہ میزائل تیار کرے اور یورینیم کو مزید افزودہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے وہ معاہدے کیے جنہیں اس نے کبھی پورا کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔