ایران پر حملے کے بعد جو ملک ہماری مذمت کر رہے ہیں پس پردہ وہ ہمارے ساتھ تھے، امریکہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون 2025ء ) امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کے بعد جو ملک ہماری مذمت کر رہے ہیں پس پردہ وہ ہمارے ساتھ تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ جن ممالک نے ہمارے خلاف بیانات دیئے ہیں، مذمت کی ہے، دراصل پرائیویٹلی وہ سب ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ یہ کارروائی ضروری تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی تعلقات کیلئے ان ممالک کو جو بھی کرنا ہے وہ کرنا ہے، تاہم اس کارروائی پر اگر پوری دنیا میں کوئی ناخوش ہے تو وہ صرف ایران کی حکومت ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر حملے سے متعلق بتایا کہ ایران کی 3 تنصیبات پر حملے کیے، ایران کی تنصیبات پر حملے میں 7 بی 2 بمبرز نے حصہ لیا ہر جہاز میں عملے کے 2 افراد سوار تھے، عملے کے درمیان انتہائی کم کمیونی کیشن تھی، بمبرز نے امریکہ سے مغرب کی اڑان بھری، بمبرز دھوکہ دینے کیلئے بحرالکاہل کی طرف گئے، یہ آپریشن ایران کی ایٹمی قوت ختم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا، یہ ایک بہت خفیہ مشن تھا، اس مشن سے واشنگٹن میں صرف چند لوگ ہی آگاہ تھے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ جہازوں کا ہدف مشرق کی جانب تھا، 18 گھنٹے کی پرواز میں متعدد بار مڈ ائیرفیولنگ ہوئی، ہر بی 2 کے ساتھ ایک معاون جہاز بھی اڑ رہا تھا اور اس تمام آپریشن میں مختلف پلیٹ فارم کا ربط تھا، بی 2 بمبار حملے سے پہلے امریکی سب میرین ایکشن میں آئی، سب میرین نے ساڑھے 12 بجے 12 سے زائد ٹوما ہاک میزائل داغے، یہ میزائل زمین پر اہم ایرانی انفراسٹرکچر پر داغے گئے، ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کو ’مڈ نائٹ ہیمر‘ کا نام دیا گیا۔ پینٹاگون حکام کی جانب سے کہا گیا کہ مڈنائٹ ہیمر میں ایران کو دھوکہ دینے کیلئے متعدد اقدامات کیے، بی 2 بمبرز کے آگے فورتھ اور ففتھ جنریشن جہاز اڑائے گئے، یہ جہاز انتہائی بلندی پر تھے اور تیزی سے پرواز کر رہے تھے، سٹرائیک پیکج کو امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ نے سپورٹ کیا، حملے میں امریکی ٹرانسپورٹیشن کمانڈ، سائیبر کمانڈ نے مدد دی، امریکی اسپیس کمانڈ، اسپیس فورس کمانڈ کی بھی مدد حاصل تھی، یو ایس یورپینی کمانڈ نے بھی اس حملے میں مدد دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جہاز نطنز کے قریب پہنچے تو یو ایس پروٹیکشن پیکج ایکشن میں آیا، اس پیکج میں سرعت کے ساتھ وار کرنے والے ہتھیار شامل تھے، یہ نطنز تک پہنچنے کیلئے بی 2 طیاروں کو تحفظ دینے کیلئے تھا، حملے میں شامل امریکی جہازوں پر کوئی جوابی وار سامنے نہیں آیا، 2 بی ٹو بمبار نے 2 بج کر 10 منٹ پر 2 جی بی یو 57 بم گرائے، یہ بم فردو ایٹمی پلانٹ پر گرائے گئے، اس کے بعد دیگر بمبار طیاروں نے اپنے اہداف پر بم گرائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حملے میں ایران کی پر حملے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔