مشرق وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کو خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کرنے سے گریز کرے اور فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
امریکی ٹی وی چینل ’سی این این‘ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان کا مشترکہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور خطے میں امن قائم رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ ان مذاکرات میں شامل ہو جو اس کے جوہری پروگرام کے تمام پہلوؤں پر شفاف معاہدے کی راہ ہموار کریں۔ یورپی رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے تعاون پر تیار ہیں۔
یورپی ممالک نے امریکی حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔