ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ،امریکا نے چین سے مدد مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک)ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے فیصلہ پرامریکا نے چین سے مدد مانگ لی۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ آبنائے ہرمز بند ہو نے کے فیصلہ پر امریکہ نے چین سے مدد مانگ لی ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک انٹرویو میں کہا آبنائے ہرمز کو بند کرنا معاشی خود کشی کے مترادف ہوگا۔
چین ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے روکنے میں مدد کرے۔ مارکو روبیو نے کہا آبنائے ہرمز کی بندش سے چین، بھارت اور جاپان کو سخت نقصان ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس اس طرح کے اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے آپشنز موجود ہیں لیکن دوسرے ممالک کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان کی معیشتوں کو امریکہ سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے تو سب سے پہلے چینی حکومت کو غصہ آنا چاہیے، کیونکہ ان کا بہت زیادہ تیل وہاں سے آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا موجو دہ کشیدگی میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جائے گا جس کے لیے واشنگٹن اور دیگر کی جانب سے ردعمل کی ضرورت ہوگی۔
مزیدپڑھیں:مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔