شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کیساتھ ہیں، ایران پر امریکی حملہ دنیا کے امن و سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ ہے، امریکی حملہ ایرانی خودمختاری پر حملہ، تمام آزادی پسندوں کو اس سامراجی حملے کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ اسلام ٹائمز، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکہ کا ایران کے فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے حملے کے بعد مشرق وسطی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا، ہم اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، امریکہ کا ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی دہشتگردی، بزدلانہ اقدام اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کیساتھ ہیں۔ ایران پر امریکی حملہ دنیا کے امن و سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ ہے اور سامراجی صہیونی گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی امن کو سبوتاژ کرنا ہے جس پر ٹرمپ کو دنیا میں بدامنی پیدا کرنے کا ایوارڈ دینا چاہیے۔

علامہ ساجد نقوی نے ایران پر امریکی حملے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حملہ ایرانی خودمختاری پر حملہ ہے، جس پر تمام آزادی پسندوں کو اس سامراجی حملے کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے، امریکی حملہ خطے کو خطرناک صورتحال کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی ہے، جبکہ ایران نے بار بار عالمی سطح پر یہ باور کرایا کہ ایرن نے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی، اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے، لیکن سامراجی صہیونی کٹھ پتلی ٹرمپ نے بین الاقومی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جو غیر قانونی اقدام کیا ہے وہ ناقابل معافی جرم ہے، جس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے، آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سامراج و صہیون کبھی بھی اپنے ہدف میں کامیاب نہیں ہونگے، ایران کے ہاتھوں شکست ان کا مقدر بن چکی ہے اور ان کے جنگی جنون کا خمیازہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوگی، فتح اسلام کی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ ساجد نقوی جوہری تنصیبات امریکی حملہ ایران کے پر حملہ

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل