بجٹ پاس کرنا آئینی مجبوری، عمران خان سے ملاقات کے بعد تبدیلیاں کریں گے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بجٹ پاس کرنا ہماری آئینی مجبوری ہے، وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح بجٹ پاس نہ ہو اور وہ ایمرجنسی لگا دیں لیکن ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور بعد ازاں عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے پیچھے ایک سازش کار فرما ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے اپنے زور بازو پر مینڈیٹ کا تحفظ کیا لیکن صوبائی حکومت کے خلاف پہلے روز سے سازش ہوری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو صرف 18 دنوں کی تنخواہوں کے پیسے تھے۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
انہوں نے کہاکہ جو بجٹ ہم منظور کررہے ہیں اس میں عمران خان کی ہدایت کے مطابق تبدیلیاں کریں گے، جب بھی عمران خان سے ملاقات ہوگی بجٹ پر ان سے رہنمائی لی جائےگی۔
انہوں نے کہاکہ اسمبلی کو میں ابھی ختم کر سکتا ہوں اور کر بھی دوں گا، لیکن ہم عمران خان کا اختیار کسی اور کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ ملک میں دو اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے بعد فیصلہ سازوں اور قابض مافیا نے آئین توڑا۔ اور یہ آئین توڑنے والوں کی بھول ہے کہ ان کا احتساب نہیں ہوگا۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ 8 فروری سے پہلے عمران خان کو گرفتار کرلیا گیا، ہم سے ہماری پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا لیکن اس کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا لیکن ہمارا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ 9 مئی کے بعد جو جبر تحریک انصاف اور اس کے کارکنوں پر کیا گیا وہ قیامت تک یاد رکھا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی مجبوری بجٹ علی امین گنڈاپور عمران خان مشاورت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور عمران خان مشاورت وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز عمران خان سے ملاقات علی امین گنڈاپور انہوں نے کہاکہ کے بعد
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :