وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بجٹ پاس کرنا ہماری آئینی مجبوری ہے، وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح بجٹ پاس نہ ہو اور وہ ایمرجنسی لگا دیں لیکن ہم یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور بعد ازاں عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔

صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے پیچھے ایک سازش کار فرما ہے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام نے اپنے زور بازو پر مینڈیٹ کا تحفظ کیا لیکن صوبائی حکومت کے خلاف پہلے روز سے سازش ہوری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو صرف 18 دنوں کی تنخواہوں کے پیسے تھے۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

انہوں نے کہاکہ جو بجٹ ہم منظور کررہے ہیں اس میں عمران خان کی ہدایت کے مطابق تبدیلیاں کریں گے، جب بھی عمران خان سے ملاقات ہوگی بجٹ پر ان سے رہنمائی لی جائےگی۔

انہوں نے کہاکہ اسمبلی کو میں ابھی ختم کر سکتا ہوں اور کر بھی دوں گا، لیکن ہم عمران خان کا اختیار کسی اور کو استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ ملک میں دو اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے بعد فیصلہ سازوں اور قابض مافیا نے آئین توڑا۔ اور یہ آئین توڑنے والوں کی بھول ہے کہ ان کا احتساب نہیں ہوگا۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ 8 فروری سے پہلے عمران خان کو گرفتار کرلیا گیا، ہم سے ہماری پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا لیکن اس کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا لیکن ہمارا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ 9 مئی کے بعد جو جبر تحریک انصاف اور اس کے کارکنوں پر کیا گیا وہ قیامت تک یاد رکھا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئینی مجبوری بجٹ علی امین گنڈاپور عمران خان مشاورت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور عمران خان مشاورت وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز عمران خان سے ملاقات علی امین گنڈاپور انہوں نے کہاکہ کے بعد

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا