خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بجٹ 2025-26 عمران خان سے مشورہ کیے بغیر پاس نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے یو ٹرن لے لیا ہے اور صوبائی حکومت کے خاتمے سے بچنے کے لیے بجٹ پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، کابینہ کے اراکین اور مرکزی رہنما عمر ایوب، شبلی فراز، وقاص شیخ اور دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ بجٹ کی منظوری کا عمل مشروط طور پر شروع ہوگا۔

’وفاق حکومت صوبائی حکومت کو ختم کرنا چاہتی ہے‘

پی ٹی آئی کا پارلیمانی اجلاس جمعے کے روز بجٹ پاس کرنے کے عمل کو روکنے کے بعد بلایا گیا تھا۔ جمعے کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں کٹ موشن پر ووٹنگ ہونا تھی، جس سے بجٹ کی منظوری کا عمل شروع ہوتا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک عمران خان سے مشاورت نہیں ہوتی، بجٹ پاس نہیں ہوگا، اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کی بہنوں کی شرکت متوقع تھی، لیکن وہ شریک نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا بجٹ کا 66 فیصد حکومتی امور اور سرکاری ملازمین پر خرچ ہو گا، عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟

اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنی ٹیم کے ساتھ بانی رہنما عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ صوبائی بجٹ پر بریفنگ دی جا سکے، لیکن تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ وفاق، صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے، اور اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔

’بجٹ مشروط طور پر پاس ہوگا‘

پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی نے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کے بجٹ کی بروقت منظوری کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین عمران خان کی بجٹ منظوری اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے مستقبل کے بارے میں ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے گا۔

پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں تجویز دی گئی کہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ مشروط طور پر اور چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق منظور کیا جائے۔

یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے، جس کے پیچھے مخصوص مقاصد ہیں۔ تاہم، پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت عمران خان کے وژن کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے مرکز کی کسی بھی سازش کا شکار ہونے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پاس کرنے کا عمل روک دیا گیا، کیا علی امین گنڈاپور اسمبلی تحلیل کر رہے ہیں؟

لہٰذا احتیاط کے طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر اسمبلی بجٹ کی بروقت منظوری میں ناکام رہی تو صوبے میں مالی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اہم امور کے اخراجات رک سکتے ہیں۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ وفاقی حکومت مالی ایمرجنسی کی آڑ میں خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر سکتی ہے۔

اسی لیے یہ طے کیا گیا کہ چیئرمین عمران خان کی قیادت میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے بجٹ کو مشروط طور پر منظور کیا جائے گا، اور بعد ازاں کسی بھی وقت چیئرمین کی ہدایات کے مطابق اس میں ترمیم کی جا سکے گی۔

کیا عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ پاس ہوگا؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا تھا کہ بجٹ اس وقت تک پاس نہیں ہوگا جب تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پر عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق، اب تک ملاقات کی اجازت نہیں ملی، تاہم پارلیمانی پارٹی نے بغیر مشاورت بجٹ پاس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اجلاس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر رواں ماہ کے دوران بجٹ منظور نہ ہوا تو وفاقی حکومت معاشی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے۔ اکثریتی ارکان نے بجٹ بغیر مشاورت منظور کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اجلاس نے آج سے بجٹ کی منظوری کی اجازت دے دی ہے۔

کیا بجٹ پاس نہ کرنے پر حکومت ختم ہو جائے گی؟

پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے، جو صوبائی حکومت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بجٹ پاس نہ ہونے سے حکومت ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اگر جون کے اختتام تک بجٹ منظور نہ ہوا تو حکومت اخراجات نہیں کر سکے گی اور سرکاری نظام مفلوج ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ 2025-26 پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا اسمبلی پاکستان تحریک انصاف ملاقات کی اجازت نہ علی امین گنڈاپور پارلیمانی پارٹی صوبائی حکومت بجٹ پاس کرنے بجٹ پاس نہ کیا گیا کہ اجلاس میں کی منظوری وزیر اعلی پی ٹی آئی کے مطابق بجٹ کی

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن