خیبر پختونخوا: بجٹ معاملے پر پی ٹی آئی یو ٹرن لینے پر مجبور کیوں ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بجٹ 2025-26 عمران خان سے مشورہ کیے بغیر پاس نہ کرنے کے اپنے فیصلے سے یو ٹرن لے لیا ہے اور صوبائی حکومت کے خاتمے سے بچنے کے لیے بجٹ پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، کابینہ کے اراکین اور مرکزی رہنما عمر ایوب، شبلی فراز، وقاص شیخ اور دیگر شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ بجٹ کی منظوری کا عمل مشروط طور پر شروع ہوگا۔
’وفاق حکومت صوبائی حکومت کو ختم کرنا چاہتی ہے‘پی ٹی آئی کا پارلیمانی اجلاس جمعے کے روز بجٹ پاس کرنے کے عمل کو روکنے کے بعد بلایا گیا تھا۔ جمعے کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں کٹ موشن پر ووٹنگ ہونا تھی، جس سے بجٹ کی منظوری کا عمل شروع ہوتا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک عمران خان سے مشاورت نہیں ہوتی، بجٹ پاس نہیں ہوگا، اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کی بہنوں کی شرکت متوقع تھی، لیکن وہ شریک نہیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا بجٹ کا 66 فیصد حکومتی امور اور سرکاری ملازمین پر خرچ ہو گا، عوام کے لیے کیا ریلیف ہے؟
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنی ٹیم کے ساتھ بانی رہنما عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ صوبائی بجٹ پر بریفنگ دی جا سکے، لیکن تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ وفاق، صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے، اور اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو معاشی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
’بجٹ مشروط طور پر پاس ہوگا‘پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی نے بھی خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کے بجٹ کی بروقت منظوری کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین عمران خان کی بجٹ منظوری اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے مستقبل کے بارے میں ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے گا۔
پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں تجویز دی گئی کہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ مشروط طور پر اور چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق منظور کیا جائے۔
یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بدنیتی پر مبنی اقدام ہے، جس کے پیچھے مخصوص مقاصد ہیں۔ تاہم، پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت عمران خان کے وژن کے ساتھ وفادار رہتے ہوئے مرکز کی کسی بھی سازش کا شکار ہونے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پاس کرنے کا عمل روک دیا گیا، کیا علی امین گنڈاپور اسمبلی تحلیل کر رہے ہیں؟
لہٰذا احتیاط کے طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر اسمبلی بجٹ کی بروقت منظوری میں ناکام رہی تو صوبے میں مالی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس سے اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اہم امور کے اخراجات رک سکتے ہیں۔ اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ وفاقی حکومت مالی ایمرجنسی کی آڑ میں خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر سکتی ہے۔
اسی لیے یہ طے کیا گیا کہ چیئرمین عمران خان کی قیادت میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے بجٹ کو مشروط طور پر منظور کیا جائے گا، اور بعد ازاں کسی بھی وقت چیئرمین کی ہدایات کے مطابق اس میں ترمیم کی جا سکے گی۔
کیا عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ پاس ہوگا؟وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے چند روز قبل اپنے ویڈیو پیغام میں واضح کیا تھا کہ بجٹ اس وقت تک پاس نہیں ہوگا جب تک عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پر عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق، اب تک ملاقات کی اجازت نہیں ملی، تاہم پارلیمانی پارٹی نے بغیر مشاورت بجٹ پاس کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اجلاس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر رواں ماہ کے دوران بجٹ منظور نہ ہوا تو وفاقی حکومت معاشی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے۔ اکثریتی ارکان نے بجٹ بغیر مشاورت منظور کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اجلاس نے آج سے بجٹ کی منظوری کی اجازت دے دی ہے۔
کیا بجٹ پاس نہ کرنے پر حکومت ختم ہو جائے گی؟پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے، جو صوبائی حکومت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بجٹ پاس نہ ہونے سے حکومت ختم نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اگر جون کے اختتام تک بجٹ منظور نہ ہوا تو حکومت اخراجات نہیں کر سکے گی اور سرکاری نظام مفلوج ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجٹ 2025-26 پاکستان تحریک انصاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا اسمبلی پاکستان تحریک انصاف ملاقات کی اجازت نہ علی امین گنڈاپور پارلیمانی پارٹی صوبائی حکومت بجٹ پاس کرنے بجٹ پاس نہ کیا گیا کہ اجلاس میں کی منظوری وزیر اعلی پی ٹی آئی کے مطابق بجٹ کی
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔