ایران اسرائیل کشیدگی، خام تیل 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر نمایاں طور پر مرتب ہونے لگے ہیں،
خام تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے بعد عالمی سطح پر توانائی کے بحران کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.
ماہرین کے مطابق ایران، جو اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اگر آبنائے ہرمز کو بند کرتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں شدید خلل آسکتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی روزانہ تیل کی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتی ہے، جس میں سے 76 فیصد ایشیائی ممالک جیسے چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سمیت ایشیائی معیشتیں بھی براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے اپنی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش پر عمل درآمد کر دیا تو دنیا بھر میں تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مہنگائی کی نئی لہر اور عالمی معیشت پر دباؤ پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔