محرم الحرام، ایم کیو ایم وفدکی علماء کرام، ذاکرین اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اس موقع پر تمام مکتبہ فکر کے علما، ذاکرین اور مذہبی رہنماؤں نے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور محرم الحرام میں بھائی چارگی، باہمی احترام اور امن کے فروغ کے لئے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما و سابق صوبائی وزیر اوقاف و نگراں مذہبی امور عبدالحسیب کی قیادت میں علما کمیٹی کے وفد نے محرم الحرام کی آمد کے آغاز سے مختلف مکاتب فکر کے علما و اکابرین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا، وفد میں شامل ایم کیو ایم مرکزی رہنما اشرف علی اور انچارج مذہبی امور کمیٹی حاجی ناصر یامین و اراکین موجود تھے۔ ملاقاتوں میں محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی و یگانگت اور امن امان قائم رکھنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال اور ایم کیو ایم پاکستان کا اتحاد بین المسلمین کا پیغام پہنچایا گیا۔ اس موقع پر تمام مکتبہ فکر کے علما، ذاکرین اور مذہبی رہنماؤں نے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور محرم الحرام میں بھائی چارگی، باہمی احترام اور امن کے فروغ کے لئے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محرم الحرام
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک