پنڈت این کے شرما نے کہا کہ یہ امن کا پیغام ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اگر مذہبی رہنما آج نہیں بولیں گے، تو کل ہم سب کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ شدت اختیار کرگئی جبکہ اس دوران بھارت کے سات بڑے مذاہب کے رہنماؤں نے امن کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانیت کو بچانے کے لئے بروقت اقدامات کریں۔ دہلی کے فارن کرسپانڈنٹس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مذہبی رہنماؤں نے امن کے لئے متحد ہو کر عالمی رہنماؤں سے جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر کے اے پال، بانی گلوبل پیس انیشیٹو نے تمام مذہبی رہنماؤں کے ساتھ امریکہ، اسرائیل، ایران اور دنیا کے بڑے ممالک پر زور دیا کہ وہ بروقت اقدامات کریں اور انسانیت کو تباہی کے دہانے سے بچائیں۔ ڈاکٹر کے اے پال، جو اب تک 155 ممالک کا سفر کر چکے ہیں اور سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور امن کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں، نے کہا "میں نے زندگی میں بہت کچھ دیکھا، لیکن میں نے آج جیسی سنگین صورتحال کبھی نہیں دیکھی، صدر ٹرمپ، وزیر اعظم نیتن یاہو اور ایرانی قیادت کے لئے ابھی بھی وقت ہے کہ بات کریں، جنگ بند کریں"۔ ڈاکٹر پال نے یہ بھی کہا کہ وہ پریس کانفرنس کے فوراً بعد نیویارک روانہ ہو جائیں گے، تاکہ وہ اقوام متحدہ کے حکام اور عالمی رہنماؤں سے مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

بھارت کی یہودی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے ربی ایزکیل آئزک مالیکر نے کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں یہودیوں کو کبھی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا "میں پہلے بھارتی ہوں، پھر یہودی۔ یہ بھارت کی طاقت ہے"۔ انہوں نے امن کی ضرورت پر زور دیا۔ جین آچاریہ لوکیش مونی نے صدر ٹرمپ، وزیر اعظم نیتن یاہو، ایران اور وزیراعظم نریندر مودی سے امن کی طرف پہل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات خونریزی سے پہلے ہونے چاہئیں، اس کے بعد نہیں۔ انہوں نے امن اقدام کو منظم کرنے پر ڈاکٹر پال کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تبتی بدھ مت کے مذہبی رہنما آچاریہ یسی فنٹسوک نے کہا کہ جب دنیا بحران کا شکار تھی، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی خاموشی شرمناک تھی۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ ادارے صرف نام کی خاطر ہیں۔ انہوں نے تبتی لوگوں پر مظالم پر چین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جو لوگ آج تشدد پھیلا رہے ہیں وہ زندہ نہیں رہیں گے، ہمیں آج ہی امن کی بنیاد رکھنی ہے۔

درگاہ اجمیر شریف کے نمائندہ واحد حسین چشتی نے کہا کہ ہم سب ایک ہی خالق کی اولاد ہیں، یہ تصادم مذہب کا نہیں اقتدار اور خود غرضی کا ہے، عالمی معیشت ٹوٹ رہی ہے، بچے مر رہے ہیں اور لیڈر خاموش ہیں، اگر ہم اب بھی باز نہ آئے تو انسانیت تباہ ہوجائے گی۔ مولانا اصغر علی سلفی مہندی نے ڈاکٹر پال کے ساتھ اپنے گزشتہ امن مشنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوڈان میں مسلم اور مسیحی برادریوں کے درمیان امن کا پیغام لے کر گئے تھے۔ آج پھر ہم اسی مقصد کے ساتھ کھڑے ہیں، دنیا کو جنگ سے بچانا ہے۔ پنڈت این کے شرما یونیورسل ایسوسی ایشن فار اسپریچوئل اویرنس کے بانی نے کہا کہ یہ "امن کا پیغام ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے، اگر مذہبی رہنما آج نہیں بولیں گے، تو کل ہم سب کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا"۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے امن کا امن کی

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم