جنگ بندی سے پہلے ایران کے حملے میں 3 اسرائیلی ہلاک، ایرانی سائنسدان شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
تل ابیب (ویب ڈیسک) جنگ بندی پر عملدرآمد سے پہلے ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں میں 3 اسرائیلی ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیلی دہشت گردی میں ایک ایرانی ایٹمی سائنسدان شہید ہو گئے۔
اسرائیل کی ایمرجنسی میڈیکل سروسز کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملے میں ملک کے جنوبی حصے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ ہم نے حملے کے مقام سے دھواں اٹھتا دیکھا اور جب قریب پہنچے تو کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
ایک عمارت کے باہر داخلی دروازے کے پاس ہمیں ایک بے ہوش شخص ملا، جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں ایک مرد اور خاتون بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے، ہم نے زخمیوں کے لیے ابتدائی طبی امداد کا مرکز قائم کیا ہے اور عمارتوں سے نکلنے والے رہائشیوں کا طبی معائنہ جاری ہے۔
اسرائیل نے ایک گھنٹہ قبل کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ملک پر دو مرحلوں میں میزائل داغے گئے، پہلی لہر میں دو اور دوسری لہر میں چار میزائل داغے گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں تہران میں ایرانی ایٹمی سائنسدان صدیقی صابر شہید ہو گئے، اسرائیلی حملہ دارالحکومت کی فردوسی اور ولی عصر سڑکوں کے قریب ہوا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران نے مرحلہ وار چار حملے کیے ہیں، شہریوں کو ابھی پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
علاوہ ازیں اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ ایران نے صبح چھ بجے کے بعد حملے نہیں کیے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔