جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد ایران نے نیا منصوبہ بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے پیش نظر ہم نے بحالی کے لیے انتظامات پہلے ہی کر رکھے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق محمد اسلامی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور امریکی حملوں سے جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے لیکن جوہری پروگرام ابھی رکا یا ختم نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ان تنصیبات میں پیداوار اور سروسز میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق، ایران کو پہلے ہی اپنے جوہری مراکز کو نقصان پہنچنے کا اندازہ تھا اور اسی بنیاد پر متبادل اقدامات کیے گئے تھے۔
یہ خبر بھی پڑھیں : ایران اسرائیل جنگ بندی؛ ٹرمپ نے دنیا کو حیران کردینے والا کارنامہ کیسے انجام دیا
یاد رہے کہ 13 جون سے جاری اسرائیلی کارروائیوں اور خصوصاً اتوار کی صبح امریکی "بنکر بسٹر" بموں اور میزائل حملوں نے ایران کے متعدد جوہری مراکز کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
ان حملوں کا مقصد ایران کے یورینیم افزودگی اور تحقیقی مراکز کو تباہ کرنا تھا تاکہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا منصوبہ مکمل طور پر ترک کردے۔
امریکا اور اسرائیل نے ان حملوں کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے اس کارروائی سے ایران کے جوہری عزائم کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو خط لکھ کر ملاقات کی تجویز دی ہے۔
انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ایران اگر ایجنسی کے ساتھ دوبارہ تعاون شروع کرے تو تنازع کا سفارتی حل نکالا جا سکتا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم، عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ ایران نے یورینیم کو 60 فیصد خالص سطح تک افزودہ کر رکھا ہے، جو کہ ہتھیاروں کی تیاری کے قریب ترین سطح ہے۔
ایران نے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو بعض جوہری تنصیبات تک رسائی سے بھی روک رکھا ہے، اور ساتھ ہی بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی وسعت دی ہے، جس پر اسرائیل کو سخت تحفظات ہیں۔
گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے فریقین کو معاہدے کو پامال نہ کرنے کی تلقین کی تھی۔
تاہم، چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ایران نے شمالی اسرائیل پر دو میزائل داغے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ISNA نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ایران کے کہ ایران ایران نے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔