اسلام آباد: (زبیر قصوری کی رپورٹ) پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں ہونے والا سب سے بڑا معاہدہ، یعنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) اور اس کی ذیلی کمپنی یوفون (Ufone) کی جانب سے ٹیلینار پاکستان (Telenor Pakistan) کے حصول کا معاملہ تاحال ریگولیٹری منظوریوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے ابھی تک اس بڑے سودے کی باضابطہ اجازت جاری نہیں کی گئی ہے۔

تازہ ترین پیشرفت کے مطابق، پی ٹی سی ایل یوفون اور ٹیلینار کے درمیان ٹیلینار پاکستان کے حصول کا معاہدہ ابتدائی طور پر جون 2025 میں ختم ہونا تھا۔ تاہم، ٹیلینار پاکستان کی سینئر انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی ٹی سی ایل یوفون کی درخواست پر اس معاہدے کی مدت میں 30 ستمبر 2025 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اس توسیع سے پی ٹی سی ایل یوفون کو SECP سے درکار قانونی منظوری حاصل کرنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے، جو اب بھی زیرِ التوا ہے۔
صارفین کی تعداد اور مارکیٹ پوزیشن:
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار (جو عام طور پر ہر ماہ جاری کیے جاتے ہیں) کے مطابق، ٹیلینار پاکستان کے صارفین کی تعداد تقریباً 44.

14 ملین (چار کروڑ اکتالیس لاکھ چالیس ہزار) ہے، جبکہ یوفون کے صارفین کی تعداد 24.3 ملین (دو کروڑ تینتالیس لاکھ) سے زیادہ ہے۔

اس حصول کے بعد، پی ٹی سی ایل/یوفون اور ٹیلینار کا مشترکہ ادارہ پاکستان کے سب سے بڑے ٹیلی کام آپریٹرز میں سے ایک بن جائے گا، جس سے مارکیٹ میں مسابقت کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ستمبر 2025 کے صارفین کے حتمی اعداد و شمار اس تاریخ کے بعد ہی دستیاب ہوں گے۔

منظوری میں تاخیر کے اثرات:
ٹیلینار موبائل فون انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلینار پاکستان کی فروخت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے “گرین سگنل” کا انتظار ہے۔ انتظامیہ کے ذمہ دار ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک سال سے زائد کی تاخیر کے باعث ٹیلینار پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے،

اس کے صارفین کی تعداد میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ خرید و فروخت کے اس عمل میں غیر معمولی تاخیر نے ٹیلینار اور یوفون دونوں کمپنیوں کے نیٹ ورک کی توسیع اور بہتری کے منصوبوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے روک رکھا ہے، جس سے دونوں کمپنیوں کے نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
صارفین اور مارکیٹ پر اثرات:
اس صورتحال کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے خرید و فروخت کے عمل میں لمبی تاخیر نے دیگر موبائل فون کمپنیوں (جاز اور زونگ) کے کاروبار میں اضافہ کیا ہے۔ صارفین بہتر سروسز اور کوریج کی تلاش میں ان کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

تاہم، مجموعی طور پر موبائل فون صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ نیٹ ورک کی بہتری میں تعطل اور نئی ٹیکنالوجیز (جیسے 5G) تک رسائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بڑی ڈیل میں طویل تاخیر نہ صرف کمپنیوں کے مالی استحکام بلکہ ملک میں ٹیلی کام کے شعبے کی مجموعی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اس معاہدے کی جلد از جلد تکمیل دونوں کمپنیوں، صارفین اور پاکستان کی ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے انتہائی اہم ہے۔

پی ٹی آئی26 نومبراحتجاج کیس: تین ملزمان پر فرد جرم عائد

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ٹیلینار پاکستان صارفین کی تعداد دونوں کمپنیوں کمپنیوں کے پاکستان کے پاکستان کی کے صارفین ٹیلی کام

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ