کراچی: نارتھ ٹاؤن سوسائٹی کے قریب تیز دھار آلے کے وار سے شخص جاں بحق، ملزمان فرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ٹاؤن سوسائٹی کے قریب نامعلوم افراد کے تیز دھار آلے سے حملے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
مقتول کی شناخت 30 سالہ مستقیم ولد خلیل کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے والد کے ہمراہ پنکچر کی دکان پر کام کرتا تھا۔
واقعے کے فوری بعد مقتول کو شدید زخمی حالت میں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
اسپتال انتظامیہ نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔
مقتول کے بھائی کے مطابق، مستقیم معمول کے مطابق دکان پر کام کر رہا تھا جبکہ ان کے والد بیٹری چارج کروانے قریبی مقام پر گئے تھے۔ اسی دوران نامعلوم ملزمان آئے اور مستقیم پر تیز دھار آلے سے حملہ کر کے فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع پر منگھوپیر اور خواجہ اجمیر نگری پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، تاہم حدود کے تعین پر دونوں تھانوں کے درمیان رات گئے تک حدود کی تکرار جاری رہی، جس کے باعث ابتدائی تفتیش میں پیش رفت تاخیر کا شکار ہوئی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔