گویائی سے محروم افراد بھی بول سکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیچر جرنل کی تحقیق کے مطابق ’برین کمپیوٹر انٹرفیس‘ اب دماغی سگنلز کو ریئل ٹائم میں آواز میں بدل سکتا ہے۔تحقیق کے شریک مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس نیورو پروستھیٹک لیب کے کو-ڈائریکٹر سرگئی ستاوسکی کے مطابق پرانے بی سی آئی سسٹمز ٹیکسٹ میسجنگ کی طرح کام کرتے تھے، جن میں دماغی سرگرمیوں کو آواز میں ڈھالنے میں تاخیر ہوتی تھی۔ نئی ٹیکنالوجی ایک صوتی کال کی طرح ہے، جو نیورل سگنلز کو فوری طور پر آواز میں بدلتی ہے۔ اس سے معذور افراد دوران گفتگو اپنی رائے فوراً پیش کر سکتے ہیں۔ بات چیت صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی، چہرے کے تاثرات کے ساتھ ساتھ ‘اوہ‘، ‘ہمم‘ جیسی غیر معیاری اصوات بھی اہم ہیں۔ ان کی ٹیم نے اس سسٹم کے ذریعے ان اصوات کو بھی ڈی کوڈ کرنے کے قابل بنایا، جو مریض کی آواز کو زیادہ فطری بناتی ہیں۔ پاکستان کے نیورو سرجن ڈاکٹر امان اللہ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اے ایل ایس اور دیگر اعصابی امراض کے مریضوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ گویائی کی قوت سے محرومی ایک تکلیف دہ تجربہ ہے، جو مریض کو سماجی اور جذباتی طور پر الگ تھلگ کر دیتا ہے۔ یہ بی سی آئی سسٹم ان افراد کو معمول کی زندگی میں واپس لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔