چیئرمین نیب نے اسپیکر ایاز صادق کو سالانہ رپورٹ 2023-24 پیش کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
چیئرمین نیب نے اسپیکر ایاز صادق کو سالانہ رپورٹ 2023-24 پیش کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 26 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی اور نیب کی سالانہ رپورٹ 2023-24 پیش کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے نیب کی جانب سے 5311 ارب روپے کی تاریخی ریکوری پر ادارے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے نیب کی غیرجانبداری اور مؤثر کارکردگی کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی بے مثال کارکردگی ادارے کی شفافیت اور احتساب کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
ملاقات میں اسپیکر نے نیب میں جاری کفایت شعاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے شفاف تحقیقات کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ شکایات کے ازالے کیلئے سہولت کاری اقدامات کو بھی سراہا۔
اسپیکر ایاز صادق نے نیب دفاتر میں شہریوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کے لیے قائم کیے گئے “اسپیشل اکاؤنٹیبلٹی ڈیسک” کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔
چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے ادارے کو ایک ماڈل احتسابی ادارہ بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو کاروبار فرینڈلی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیب کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ کرے گا تاکہ پاکستان کو معاشی اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکوہستان کرپشن اسکینڈل: نیب نے 5 ارب روپے کے مشکوک بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے کوہستان کرپشن اسکینڈل: نیب نے 5 ارب روپے کے مشکوک بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے اسرائیل، ایران کشیدگی کے دوران پاکستان نے برادر اسلامی ملک کی بھرپور حمایت کی، وزیر اعظم ’رومانیائی زبان ‘کی پاکستان میں پہلی بار’’نمل‘‘اسلام آباد میں تدریس وفاقی کابینہ کا اجلاس: پیٹرولیم لیوی متعین کرنے کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو دینے کی منظوری ایک سو نوے ملین پائونڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ملتوی، نیب کی استدعا منظور مخصوص نشستیں کیس؛ ’’لگتا ہے پی ٹی آئی میں کوآرڈینیشن کا فقدان تھا‘‘ جسٹس محمد علی مظہرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایاز صادق
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔