کوسٹ گارڈز نے 93 ارب مالیت کی منشیات کو تلف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کوسٹ گارڈز نے ایک سال کے دوران پکڑی جانے والی 93 ارب روپے سے زائد مالیت کی ہزاروں کلوگرام منشیات کو تلف کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق منشیات کےعالمی دن کی مناسبت سے پاکستان کوسٹ گارڈز نے ایک سال کے اندر مختلف کارروائیوں میں لی گئی منشیات کو تلف کیا۔
اس دوران 10862 کلو گرام چرس،80کلو گرام کرسٹل، 1758کلو گرام ہیروئن، 117کلوگرام آئس،150 کلوگرام بھنگ جبکہ 2888 شراب کی بوتلیں اور2402 ٹن بیئرکونذرآتش کیا۔
ترجمان کوسٹ گارڈزکے مطابق ہرسال26 جو ن کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد اقوام عالم کواسمگلنگ اورمنشیات کےنقصانات سے آگاہی دلانا اور منشیات کو تلف کرنا ہے۔بلا شبہ منشیات انسانی جانوں کےلئے زہر قاتل ہے۔
ترجمان کے مطابق اسمگلنگ اورمنشیات کا ناسورکس طرح ہماری قوم اوربین الاقوامی برادری کو نقصان پہنچارہا ہے،ہم سب اس سے آگاہ ہیں۔ لہذا ہم سب کومل کران کےخلاف جہاد کرنا ہوگا۔ اس دن کی مناسبت سےپاکستان کوسٹ گارڈز نےاسکول اور کالج کےطلباء وطالبات کوبھی منشیات کےاستعمال سےپہنچنے والےنقصانات سےآگاھی فراہم کی۔
کراچی میں حسن شاہ مزار کے قریب ممنوعہ اسمگل اشیاء اورمنشیات کےجلانے کی تقریب کا اہتمام کیا۔ اسکےعلاوہ رواں سال 2025 میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے زیراہتمام گوادر،اوتھل اورکراچی میں نذر آتش گئیں۔
نذرآتش کی جانے والی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 329 ملین ڈالرکے لگ بھگ ہے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے 93 ارب 40 کروڑ 62 لاکھ 58 ہزار 400 کے قریب بنتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوسٹ گارڈز منشیات کو
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔