سوشل میڈیا اسٹار ثنا یوسف کے قاتل نے اعتراف جرم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
سترہ سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل میں گرفتار نوجوان عمر حیات نے عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔ قاتل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کی یہ حرکت غصے اور انتقام کے زیرِ اثر کی گئی تھی، کیونکہ ثنا نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، 22 سالہ عمر حیات کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ سعد نذیر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 164 کے تحت اعترافی بیان ریکارڈ کروایا۔ بیان میں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ ثنا کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتا تھا، لیکن اس کے مسلسل انکار نے اسے اس حد تک مشتعل کیا کہ اس نے قاتلانہ قدم اٹھا لیا۔
ملزم کے مطابق، پہلی بار جب وہ ثنا کے گھر ملاقات کے لیے گیا تو سارا دن انتظار کرتا رہا، مگر ثنا نے اسے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا اور واپس جانے کا کہہ دیا۔ عمر حیات کا کہنا تھا کہ وہ ثنا کی سالگرہ کے لیے تحفہ بھی لے کر گیا تھا، لیکن وہ بھی مسترد کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق، 2 جون کو ثنا نے دوبارہ ملاقات کے لیے بلایا، لیکن تب بھی بات نہ بن سکی، جس پر وہ شدید غصے میں آ گیا۔ ملزم نے مزید بتایا کہ وہ طیش میں آ کر ثنا کے گھر گھس گیا اور سینے پر دو گولیاں مار کر اسے قتل کر ڈالا۔
یاد رہے کہ یہ المناک واقعہ 2 جون کی شام پیش آیا تھا، جب سترہ سالہ ثنا یوسف کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ گولیاں سینے میں لگنے کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
واقعہ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا تھا، جہاں ثنا یوسف کی مداحوں کی بڑی تعداد نے افسوس اور غصے کا اظہار کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ
روم؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔ چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔ پولیس نے تحقیقات کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہے کہ اطلاع ہے کہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ اطالوی حکام سے رابطہ میں ہے۔