دریائے سوات میں طغیانی، پکنک منانے والے خاندان کے نو افراد ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 جون 2025ء) پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام سوات سے آج ستائیس جون بروز جمعہ موصولہ اطلاعات کے مطابق دریائے سوات میں طغیانی کے باعث کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق دریا میں نہاتے ہوئے کچھ بچے پانی میں بہہ گئے، جنہیں بچانے کے لیے ان کے رشتہ دار بھی دریا میں کودے لیکن وہ بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گئے۔
ضلعی انتظامیہ کے سربراہ شہزاد محبوب نے روئٹرز کو بتایا کہ متاثرہ خاندان دریائے سوات کے کنارے ناشتہ کر رہا تھا اور بچے دریا میں تصویریں بنا رہے تھے کہ اچانک ایک بڑا سیلابی ریلہ آ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں بچے اور بڑے دونوں شامل ہیں، تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ہلاک شدگان میں کتنے بچے اور کتنے بالغ شامل ہیں۔
(جاری ہے)
اب تک نو لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ چار افراد کو زندہ بچا لیا گیا اور مزید چار افراد لاپتا ہیں۔مقامی میئر شاہد علی خان کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد ایک ہی خاندان کے رکن تھے، جو ایک سیاحتی دورے پر سوات آئے ہوئے تھے۔ ریسکیو اہلکار شاہ فہد کے مطابق مقامی افراد اور 80 سے زائد ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اس واقعے کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں ہزاروں سیاح، بالخصوص پاکستان کے دیگر علاقوں سے، شمالی پاکستان کے پہاڑی اور برفانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق شہباز شریف نے متاثرہ خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ کو ریسکیو کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
شکور رحیم، روئٹرز کے ساتھ
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دریائے سوات کے مطابق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال