کراچی: شہری کی محبت میں تیونس سے آئی خاتون تھانے پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
—جنگ فوٹو
کراچی کے شہری کی محبت میں تیونس سے آنے والی خاتون تھانے پہنچ گئیں۔
امریکی خاتون کے بعد تیونس کی لڑکی کے ساتھ بھی کراچی میں بے وفائی ہوگئی۔
نیاآباد لیاری کے رہائشی 19سالہ محمد عامر نے 19 سالہ سندا ایاری کو 7 ماہ کی شادی کے بعد طلاق دے دی۔
خاتون نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ ان کی لیاری کے رہائشی نوجوان سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، 28 نومبر کو تیونس سے کراچی آئی۔
سندا ایاری نے کہا ہے کہ 29 نومبر کو شادی ہوئی اور نکاح نامہ 6 مارچ کو لیاری بغدادی کی یونین کونسل میں رجسٹرڈ کروایا گیا۔
تیونس کی خاتون نے پولیس کو بتایا ہے کہ شوہر نے شادی کے 7 ماہ بعد طلاق دے دی جبکہ میرا وزٹ ویزا 18 فروری کو ختم ہو چکا ہے، اخراجات کے لیے رقم نہیں ہے۔
سندا ایاری نے اپیل کی کہ تیونس واپس جانا چاہتی ہوں حکومت ایگزٹ پرمٹ جاری کرے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکے کو تھانے بلوایا تھا، اُس نے بیوی کو طلاق دینے کا بتایا اور چلا گیا۔
پولیس کے مطابق لڑکی نے لڑکے کے خلاف کسی زیادتی کی شکایت نہیں کی، مزید بات چیت کے لیے لڑکے کو فون کیا تو اس کا موبائل فون بند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک