جرمنی میں چینی اے آئی ماڈل ڈیپ سیک پر پابندی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی کے وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل اور گوگل سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی اے آئی ماڈل ‘ڈیپ سیک’ کو اپنے ایپ اسٹورز سے جرمنی میں ہٹا دیں، کیونکہ اس ایپ کے ذریعے صارفین کا حساس ڈیٹا چین منتقل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمشنر مائیکے کمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈیپ سیک ایپ جرمن شہریوں کا ذاتی ڈیٹا چین میں موجود سرورز پر اسٹور کر رہی ہے، جو یورپی یونین کے ڈیٹا تحفظ قوانین سے واضح انحراف ہے۔
وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے کہا کہ چینی قوانین کے تحت حکومتی اداروں کو ملکی کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ڈیپ سیک نہ تو میری ایجنسی کو کوئی اطمینان بخش وضاحت دے سکا، نہ ہی یورپی معیار کے مطابق کوئی حفاظتی گارنٹی فراہم کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیپ سیک کی پرائیویسی پالیسی میں واضح طور پر درج ہے کہ وہ صارفین کی اپ لوڈ کی گئی فائلز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی درخواستوں کو چین میں موجود کمپیوٹروں پر محفوظ رکھتا ہے۔
جرمن کمشنر نے مزید بتایا کہ ان کی ایجنسی نے مئی میں ڈیپ سیک کو خبردار کیا تھا کہ وہ یا تو یورپی ڈیٹا تحفظ کے اصولوں پر عمل درآمد کرے یا ازخود جرمن مارکیٹ سے دستبردار ہو جائے، لیکن ڈیپ سیک نے کسی بھی آپشن پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد حکومت نے ایپل اور گوگل سے باقاعدہ درخواست کر دی ہے کہ ایپ کو جرمن صارفین کی رسائی سے ہٹا دیا جائے۔
اس حوالے سے ڈیپ سیک کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ ایپل اور گوگل نے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
خیال رہے کہ ڈیپ سیک نے جنوری 2025 میں اپنی لانچنگ کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کا اے آئی ماڈل امریکی کمپنیوں اوپن اے آئی اور ’چیٹ جی پی ٹی کے مساوی صلاحیت کا حامل ہے مگر اس کی لاگت کہیں کم ہے۔ تاہم یورپ اور امریکا میں اس چینی ماڈل کے ڈیٹا سیکیورٹی معیارات پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اسی سال کے آغاز میں اٹلی نے بھی اسی بنیاد پر ڈیپ سیک کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا تھا جبکہ نیدرلینڈز نے سرکاری سطح پر اس ایپ کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔
ادھر امریکا میں قانون ساز ایک ایسا قانون متعارف کروانے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے تحت سرکاری اداروں میں چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈیپ سیک چین کی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ گہرے روابط رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ان کی کارروائیوں میں معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی ماڈل
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔