Jasarat News:
2026-07-24@01:52:09 GMT

جرمنی میں چینی اے آئی ماڈل ڈیپ سیک پر پابندی کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برلن: جرمنی کے وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل اور گوگل سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی اے آئی ماڈل ‘ڈیپ سیک’ کو اپنے ایپ اسٹورز سے جرمنی میں ہٹا دیں، کیونکہ اس ایپ کے ذریعے صارفین کا حساس ڈیٹا چین منتقل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمشنر مائیکے کمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ڈیپ سیک ایپ جرمن شہریوں کا ذاتی ڈیٹا چین میں موجود سرورز پر اسٹور کر رہی ہے، جو یورپی یونین کے ڈیٹا تحفظ قوانین سے واضح انحراف ہے۔

وفاقی ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے کہا کہ چینی قوانین کے تحت حکومتی اداروں کو ملکی کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ڈیپ سیک نہ تو میری ایجنسی کو کوئی اطمینان بخش وضاحت دے سکا، نہ ہی یورپی معیار کے مطابق کوئی حفاظتی گارنٹی فراہم کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیپ سیک کی پرائیویسی پالیسی میں واضح طور پر درج ہے کہ وہ صارفین کی اپ لوڈ کی گئی فائلز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی درخواستوں کو چین میں موجود کمپیوٹروں پر محفوظ رکھتا ہے۔

جرمن کمشنر نے مزید بتایا کہ ان کی ایجنسی نے مئی میں ڈیپ سیک کو خبردار کیا تھا کہ وہ یا تو یورپی ڈیٹا تحفظ کے اصولوں پر عمل درآمد کرے یا ازخود جرمن مارکیٹ سے دستبردار ہو جائے، لیکن ڈیپ سیک نے کسی بھی آپشن پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد حکومت نے ایپل اور گوگل سے باقاعدہ درخواست کر دی ہے کہ ایپ کو جرمن صارفین کی رسائی سے ہٹا دیا جائے۔

اس حوالے سے ڈیپ سیک کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ ایپل اور گوگل نے بھی تاحال اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ڈیپ سیک نے جنوری 2025 میں اپنی لانچنگ کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کا اے آئی ماڈل امریکی کمپنیوں اوپن اے آئی اور ’چیٹ جی پی ٹی کے مساوی صلاحیت کا حامل ہے مگر اس کی لاگت کہیں کم ہے۔ تاہم یورپ اور امریکا میں اس چینی ماڈل کے ڈیٹا سیکیورٹی معیارات پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسی سال کے آغاز میں اٹلی نے بھی اسی بنیاد پر ڈیپ سیک کو اپنے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا تھا جبکہ نیدرلینڈز نے سرکاری سطح پر اس ایپ کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔

ادھر امریکا میں قانون ساز ایک ایسا قانون متعارف کروانے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے تحت سرکاری اداروں میں چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈیپ سیک چین کی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ گہرے روابط رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ان کی کارروائیوں میں معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے آئی ماڈل

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری