کیڑوں کے آٹے سے بنائی گئی ڈبل روٹی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹڈوں، کیڑوں اور فنگس سے بنائے گئی نئی ڈبل روٹی دنیا پر منڈلاتے غذائی بحران سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہے۔
کامیاب ہونے والا ’انسیکٹ فلاؤر‘ (کیڑوں کا آٹا) پروجیکٹ میکسیکو کی ڈاکٹر سیلیسٹ اِبارا-ہِریرا کی سربراہی میں محققین کی ٹیم نے کیا جن کی توجہ کا مرکز مستقبل میں غذا کی دستیابی تھی۔
سائنس دانوں نے میکسیکو اور گواٹے مالا میں پائے جانے والے ٹڈوں کی ایک قسم اسفینیریم پرپیوراسینز کا استعمال کرتے ہوئے خاص قسم کا آٹا بنایا۔
انہوں نے ڈبل روٹی کی بنیاد بنانے کے لیے اجناس میں پائے جانے والے کیڑوں کا بھی استعمال کیا۔ اس کے علاوہ آتے میں کھانے کے قابل فنگس بھی ملایا گیا۔
سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ ڈبل روٹی کی ساخت، ذائقہ اور غذائیت کو بہتر بنانے کے لیے فنگس کو شامل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ڈبل روٹی اعلیٰ معیاری پروٹین، اہم فیٹی ایسڈز، آئرن، زنک، غذائی فائبر اور بائیو ایکٹو مرکبات فراہم کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبل روٹی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔