data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میٹا (Meta) گزشتہ کئی برسوں سے اپنی آرٹیفشل انٹیلیجنس (AI) پروگرامز کی تربیت کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کی گئی اربوں پبلک تصاویر سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ تاہم اب کمپنی ایسی تصاویر تک بھی رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے جو صارفین نے سرور پر اپ لوڈ ہی نہیں کیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، متعدد صارفین کو فیس بک اسٹوریز پوسٹ کرنے کی کوشش کے دوران ایک پاپ اپ میسج دکھائی دیا جس میں ان سے “کلاؤڈ پروسیسنگ” کی اجازت طلب کی گئی۔ اس اجازت کے نتیجے میں فیس بک کو صارفین کے فونز میں موجود کیمرا رول یعنی ایسی تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے جو ابھی تک کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر نہیں کی گئیں۔

اس پیغام میں واضح کیا گیا کہ اجازت دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ صارف میٹا کی AI شرائط کو قبول کر رہا ہے، جس کے تحت کمپنی نہ صرف ان نجی تصاویر بلکہ ان میں موجود چہروں اور دیگر بصری تفصیلات کا تجزیہ کر سکے گی۔

اس کے ساتھ ہی، صارفین درپردہ اپنی ذاتی معلومات کے استعمال کی بھی اجازت دے رہے ہوں گے۔

میٹا نے حال ہی میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ 2007 سے فیس بک اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کی جانے والی پبلک پوسٹس کو اپنے جنریٹیو AI ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مواد صرف ان صارفین کا ہوتا ہے جو 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیس بک

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ