بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست 2025ء ) ملک میں بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاق کی جانب سے ٹرانسمیشن سسٹم چارجزکی مد میں بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے نیشنل گرڈ کمپنی نے سسٹم چارجز کی مد میں اضافے کی درخواست نیپرا میں دائرکردی۔
بتایا گیا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی نے 484 ارب کے سسٹم چارجز وصول کرنے کیلئے درخواست دائرکی ہے، نیشنل گرڈ کمپنی نے 2022/23ء کیلئے 112 ارب روپے کی درخواست دائر کی، 2023/24ء کیلئے 163 ارب روپے مانگے گئے ہیں جب کہ سال 2024/25ء کیلئے 209 ارب روپے وصول کرنے کی درخواست کی گئی ہے، اس حوالے سے نیپرا کی منظوری ملنے پر صارفین سے مذکورہ رقوم کی وصولی کی جائے گی اور صارفین سے بجلی بلوں کی مد میں 284 ارب وصول کیے جائیں گے۔(جاری ہے)
دوسری طرف حکومت کی طرف سے پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کے لیے مقررہ یونٹس کی حد میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے جس سے لاکھوں افراد کو اضافی بلوں سے ریلیف ملنے کا امکان ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی نے حالیہ سیشن میں بجلی کے بلوں میں 5 ہزار روپے تک کے اضافے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا، جس کا سامنا صارفین کو صرف 201 یونٹس استعمال کرنے پر کرنا پڑتا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اراکین کی جانب سے اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست اظہارِ تشویش کیا گیا اور مؤقف اپنایا کہ ’معمولی یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو بھی نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں ڈالنا زیادتی کے مترادف ہے‘، ذرائع وزارت توانائی نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی طرف سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کے مقررہ یونٹس کی موجودہ حد 201 یونٹس سے بڑھاکر 301 یونٹس تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس تجویز پر عمل کیے جانے کی صورت میں جو صارفین 300 یونٹس تک بجلی استعمال کریں گے انہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں رکھا جاسکتا ہے، جس کے لیے پروٹیکٹڈ اور نان پرٹیکٹڈ بجلی صارفین کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے، مذکورہ کمیٹی 201 کی بجائے بجلی کے 300 یونٹس کو نان پروٹیکٹڈ شرح میں لانے کی سفارش کرسکتی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بجلی کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔