UrduPoint:
2026-07-24@11:00:17 GMT

بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست 2025ء ) ملک میں بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاق کی جانب سے ٹرانسمیشن سسٹم چارجزکی مد میں بجلی کے صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے نیشنل گرڈ کمپنی نے سسٹم چارجز کی مد میں اضافے کی درخواست نیپرا میں دائرکردی۔

بتایا گیا ہے کہ نیشنل گرڈ کمپنی نے 484 ارب کے سسٹم چارجز وصول کرنے کیلئے درخواست دائرکی ہے، نیشنل گرڈ کمپنی نے 2022/23ء کیلئے 112 ارب روپے کی درخواست دائر کی، 2023/24ء کیلئے 163 ارب روپے مانگے گئے ہیں جب کہ سال 2024/25ء کیلئے 209 ارب روپے وصول کرنے کی درخواست کی گئی ہے، اس حوالے سے نیپرا کی منظوری ملنے پر صارفین سے مذکورہ رقوم کی وصولی کی جائے گی اور صارفین سے بجلی بلوں کی مد میں 284 ارب وصول کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف حکومت کی طرف سے پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کے لیے مقررہ یونٹس کی حد میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے جس سے لاکھوں افراد کو اضافی بلوں سے ریلیف ملنے کا امکان ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی نے حالیہ سیشن میں بجلی کے بلوں میں 5 ہزار روپے تک کے اضافے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا، جس کا سامنا صارفین کو صرف 201 یونٹس استعمال کرنے پر کرنا پڑتا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ اراکین کی جانب سے اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے براہِ راست اظہارِ تشویش کیا گیا اور مؤقف اپنایا کہ ’معمولی یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو بھی نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں ڈالنا زیادتی کے مترادف ہے‘، ذرائع وزارت توانائی نے کہا ہے کہ اراکین اسمبلی کی طرف سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد پروٹیکٹڈ بجلی صارفین کے مقررہ یونٹس کی موجودہ حد 201 یونٹس سے بڑھاکر 301 یونٹس تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس تجویز پر عمل کیے جانے کی صورت میں جو صارفین 300 یونٹس تک بجلی استعمال کریں گے انہیں پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں رکھا جاسکتا ہے، جس کے لیے پروٹیکٹڈ اور نان پرٹیکٹڈ بجلی صارفین کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے، مذکورہ کمیٹی 201 کی بجائے بجلی کے 300 یونٹس کو نان پروٹیکٹڈ شرح میں لانے کی سفارش کرسکتی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بجلی کے

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ