Juraat:
2026-06-03@07:26:06 GMT

گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ

 

پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر ماہانہ 600، نان پروٹیکٹڈ کے لیے ماہانہ 1500روپے فکسڈ چارجز
گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت 200تا 4200روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر، نوٹیفکیشن

اوگرا نے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔تفصیلات کے مطابق مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اوگرا نے صارفین کے لیے گیس مہنگی کردی جس کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔نوٹی فکیشن کے مطابق گیس کے نئے نرخوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔نوٹی فکیشن کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت 200 تا 4200روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے ۔ پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخ 200 سے 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔اسی طرح نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخ 500 سے 4200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر ماہانہ 600روپے فکسڈ چارجز، نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ 1500روپے فکسڈ چارجز ہوں گے ۔اس کے علاوہ 1.

5میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے نان پروٹکیٹڈ صارفین کے لیے 3 ہزار روپے فکسڈ چارجز عائد کردیے گئے ۔ نوٹی فکیشن کے مطابق سرکاری،سیمی گورنمنٹ،اسپتال،تعلیمی اداروں کے لیے گیس کے نرخ مقرر کردیے گئے ۔ ان اداروں کے لیے گیس کے نرخ 3ہزار175 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔روٹی کے تندروں کے لیے گیس کے نرخ 110 روپے سے 700 روپے تک فی ایم ایم بی ٹی یو، کمرشل صارفین کے لیے گیس کے نرخ 3900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، جنرل انڈسٹری کے لیے گیس کے نرخ 2300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کیپٹو پاور کے لیے گیس کے نرخ 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، سی این جی کے لیے 3750،سیمیٹ فیکٹریوں کے لیے 4400 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، کھاد فیکٹریوں کے لیے ایک ہزار597 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کے الیکڑک سمیت تمام بجلی گھروں کے لیے 1225 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کیے گئے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

ویب ڈیسک :پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نےآئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار  روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی۔

  اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کردیا جس کے تحت  مالی سال 2026-27 کے لیے قومی سطح پر کم از کم اجرت 45000 روپے ماہانہ مقرر  کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 پائیڈ نے موجودہ کم از کم اجرت 40000 روپے کے مقابلے آئندہ مالی سال کیلئے  12.5 فیصد اضافہ  تجویز کیا ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات ، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ 

 یہ بھی پڑھیں:نئی کاواساکی موٹرسائیکل نےدھوم مچا دی

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی اور اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

متعلقہ مضامین

  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ