بیرسٹر سیف نے 2022 کے مری واقعہ کا ذمہ دار بھی مریم نواز کو ٹھہرا دیا، استعفیٰ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے سوات واقعے پر مستعفی ہونے کے مطالبے کے جواب میں خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نہ صرف حالیہ سانحہ پاکپتن پر استعفیٰ کا مطالبہ کیا بلکہ جوشِ جذبات میں جنوری 2022 کے سانحہ مری پر بھی ن لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز کا استعفیٰ مانگ لیا۔
یہ بھی پڑھیں سوات واقعہ افسوسناک قدرتی آفت تھی، ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی گئی : بیرسٹر سیف
بیرسٹر سیف نے ایک میڈیا بیان میں کہاکہ جس طرح علی امین گنڈاپور سے سوات واقعے پر استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسی طرح مریم نواز کو بھی ان واقعات کی ذمہ داری لینی چاہیے، خصوصاً اُس وقت جب مری میں برف باری کے دوران 23 افراد اپنی گاڑیوں میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔
تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا گیا، کیونکہ سانحہ مری جنوری 2022 میں پیش آیا تھا، جب پنجاب میں وزیراعلیٰ کا منصب سردار عثمان بزدار کے پاس تھا اور مرکز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم تھی اور عمران خان وزیراعظم تھے۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب شدید برفباری کے باعث مری جانے والی سڑکیں بند ہوگئی تھیں اور سیکڑوں سیاح اپنی گاڑیوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ مناسب حکومتی امداد نہ پہنچنے کے باعث کئی خاندانوں کو گاڑیوں میں ہی موت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر معمولی برفباری اور بغیر پیشگی تیاری کے لوگوں کا بڑی تعداد میں مری جانا اس سانحے کا سبب بنا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات: غیر قانونی مائننگ، تجاوزات اور ریسکیو میں کوتاہی، کب کیا ہوا؟
سوشل میڈیا پر بھی بیرسٹر سیف کے بیان پر طنز و تنقید جاری ہے، اور صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ماضی کے واقعات کو بنیاد بنا کر استعفے مانگے جائیں تو کیا موجودہ حکمرانوں کو بھی ہر ماضی کے سانحے کا حساب دینا ہوگا؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استعفے کا مطالبہ برف باری پاکپتن واقعہ سانحہ سوات علی امین گنڈاپور عمران خان مری واقعہ مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفے کا مطالبہ پاکپتن واقعہ سانحہ سوات علی امین گنڈاپور مری واقعہ مریم نواز وی نیوز بیرسٹر سیف مریم نواز کا مطالبہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔