ویب ڈیسک:  چار ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کےلیےجوڈیشل کمیشن کا اجلاس جاری ہے۔

 چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں جس میں سندھ، بلوچستان، پشاور اور اسلام آباد ہائیکورٹس کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے لیے ہر ہائیکورٹ کے سینئر ترین تین ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔ 

 جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیلئے جسٹس عتیق شاہ کے نام کی منظوری دے دی ہے۔

سکولوں کے فنڈز میں گھپلوں کا انکشاف

 چیف جسٹس اسلام آباد کے لیے جسٹس سرفرازڈوگر، جسٹس محسن کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے نام زیر غور  آئیں گے جب کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے لیے جسٹس جنیدغفار، جسٹس ظفر راجپوت اور جسٹس اقبال کلہوڑو کےناموں پرغور ہوگا۔ 

 چیف جسٹس بلوچستان کے لیے جسٹس روزی خان بڑیچ، جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس اقبال کاسی کےناموں پر غورہوگا۔

 واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے13مستقل اراکین ہیں تاہم ہائیکورٹ کےچیف جسٹس کے لیے کمیشن کے  ممبران کی تعداد 16 ہو گی جب کہ کم ازکم 9 ممبران کی اکثریت سے چیف جسٹسز کا تقرر ہوگا۔ 

راولپنڈی: گھر میں گیس لیکج سے دھماکہ، 7 شہری زخمی

 جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے 4 ججز، اٹارنی جنرل، 2  حکومتی اراکین اور 2 اپوزیشن اراکین شریک ہیں۔

 جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کی نمائندگی احسن بھون کریں گے اور جوڈیشل کمیشن میں اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد روشن خورشید بھروچہ بھی شریک ہوں گی۔

 ہر صوبے کے چیف جسٹس کے لیے صوبائی وزیر قانون، ہائیکورٹ بار نمائندہ اور سابق جج شریک ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے 16 ممبران میں سے کم از کم 9 ممبران کی اکثریت سے چیف جسٹس کا تقرر ہوگا۔

آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس  -منگل 01 جولائی ،  2025

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن