جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عتیق شاہ کو پشاور ہائیکورٹ جبکہ جسٹس روزی خان کو بلوچستان ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے ناموں کی منظوری دیدی ہے۔

سپریم کورٹ میں چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس شروع ہو گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد، سندھ، بلوچستان، پشاور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کی تعیناتی پر غور ہوگا۔ چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پہلے مرحلے پر پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔ اس ضمن میں جوڈیشل کمیشن کے پیش نظر 3 نام تھے۔ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی کے ناموں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جسٹس عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کے نام کی منظوری دیدی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی پر غور و خوض شروع ہوا۔ جوڈیشل کمیشن بلوچستان ہائیکورٹ سے جسٹس روزی خان، جسٹس محمد کامران خان اور جسٹس اقبال احمد کاسی کے ناموں پر غور کیا۔ جس کے بعد جسٹس روزی خان  کو چیف جسٹس بلوچستان  ہائیکورٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان کے نام کی منظوری دیدی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کی کارروائی کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پر فیصلہ پہلے ہونا چاہیے۔

جسٹس منیب اختر نے بھی جسٹس منصور علی شاہ کی رائے کے حق میں رائے دی۔ جبکہ پی ٹی آئی کے 2 ممبران نے بھی جسٹس منصور شاہ کی رائے کی حمایت کی۔ وزیر قانون خیبرپختوا نے بھی جسٹس منصور علی شاہ کی رائے سے اتفاق کیا۔

جوڈیشل کمیشن اجلاس سے قبل پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی کے حوالے سے 5 ججز نے درخواست دی ہوئی ہے۔ جب تک ججز انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ نہیں ہو جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کی چیف جسٹس تعیناتی روکنے کی درخواست کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تعینات کرنے کا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ پشاور ہائیکورٹ جوڈیشل کمیشن کے چیف جسٹس کی تعیناتی عتیق شاہ کیا گیا

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ