گوجرانوالہ: زہریلا پیزا کھانے سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 3 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
فوٹوز بشکریہ سوشل میڈیا
پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں گزشتہ روز مضرِ صحت کھانا کھانے سے مزید ایک بچہ اسپتال میں دم توڑ گیا، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 3 ہو گئی۔
پولیس کے مطابق گوجرانوالہ کے علاقے ایمن آباد کے رہائشی پولیس اہلکار نے گزشتہ روز اپنی بیٹی کی سالگرہ پر مختلف دکانوں سے کھانے کی اشیاء منگوائی تھیں جن میں پیزا، شوارمہ، باربی کیو اور دودھ شامل تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مضرِ صحت کھانا کھانے کے بعد تمام گھر والوں کی حالت غیر ہو گئی، اسپتال منتقلی کے دوران ایک بچی دم توڑ گئی تھی جبکہ پولیس اہلکار، اس کی بیوی اور 5 بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، 2 بچے اسپتال میں دم توڑ گئے۔
گوجرانوالہ میں مضرِ صحت کھانا کھانے سے ایک بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ پولیس اہلکار، اس کی بیوی اور 3 بچے اسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ میاں بیوی اور 3 بچے اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے دکانیں سیل کروا کر سیمپل لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ افسوس ناک واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ 6 دکانداروں کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کھانے سے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔