پنجاب: محرم کے مجالس اور جلوسوں کیلئے سخت سیکیورٹی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
— فائل فوٹو
صوبہ پنجاب میں محرم الحرام کے مجالس اور جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس نے سخت انتظامات کیے ہیں۔
پولیس کے مطابق پنجاب میں 37 ہزار 500 سے زائد اہلکار جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی پر تعینات ہیں، لاہور میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ صوبہ بھر میں آج 547 عزاداری جلوس، 3804 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ لاہور میں 42 عزاداری جلوس برآمد، 410 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق پنجاب میں سیکیورٹی انتظامات میں 19 ہزار سے زائد کمیونٹی رضاکار معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی، حکومت پنجاب کی طرف سے نافذ دفعہ 144 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
محکمہ داخلہ سندھ نے یوم عاشور پر سندھ بھر میں موبائل فون سروس معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، نفرت آمیز مواد کی تشہیر اور اشتعال انگیزی پر پابندی ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ طے شدہ روٹس اور مقامات کے سوا جلوس اور مجالس کی اجازت نہیں ہوگی، سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ ، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ اور پیرو سمیت دیگر فیلڈ فارمیشنز محرم الحرام میں سیکیورٹی پر تعینات ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی پاسداری پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر کے مرتکب قانون شکن عناصر کی سرکوبی یقینی بنائیں۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام اضلاع میں قائم کنٹرول رومز سینٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک، ہمہ وقت رابطہ میں ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں