علی امین گنڈاپور انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش نہ ہوئے، اشتہاری اسٹیٹس برقرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اکتوبر 2022 احتجاج کیس میں اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ان کا اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار ہے۔
علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ آئی 9 میں درج مقدمے پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی کردی گئی ہے۔
عدالت میں وکیل ظہور الحسن نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور آج پیش نہیں ہوسکتے، میں 10 جولائی کو ہر صورت پیش کردوں گا۔
گزشتہ سماعت کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو جانے پر توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ملزم کا سیکشن 87 کے تحت اشتہار جاری ہوا جب تک عدالت نہیں آتے اشتہار کینسل نہیں ہوسکتا۔
جج طاہر عباس سِپرا نے ریمارکس دیے کہ اس کے ساتھ قبل از گرفتاری ضمانت بھی کروانی چاہیے لیکن لاہور ہائیکورٹ کی ججمنٹ آگئی ہے، ریلیف لینے کے لیے علی امین کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، پشاور ہائیکورٹ کا حکم موجود ہے، میں نیا حکم نامہ کیسے جاری کروں؟
وکیل صفائی نے کہا کہ مجھے آپ کے وارنٹ کی فکر ہے، اس کو معطل کردیں، علی امین گنڈاپور پیش ہو جائیں گے۔
جج طاہر عباس سِپرا نے کہا کہ وہ تو اس وقت کا اشتہار تھا جب وہ سپریم کورٹ انصاف لینے گئے، آپ ریلیف مانگتے ہیں لیکن اس کے لیے عدالتوں کا بھی احترام کریں۔ علی امین گنڈاپور کے آنے تک میں وارنٹ یا اشتہار کینسل نہیں کرسکتا، اسلام آباد پولیس پاکستان کی ہر ہائیکورٹ کے حکم کی تعمیل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں نہ تو وارنٹ اور نہ ہی اشتہار ختم کر رہا ہوں، میں نے پولیس کو حکم دے دیا ہے اگر ہائیکورٹ کا حکم ملا تو اس پر عملدرآمد کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور عدالت میں
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔