—فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا ٹیم کو حکومت کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی پروموٹ کرنے کی ہدایت کی۔ ملاقات میں 11 کروڑ روپے کے بسکٹ کھانے والی خبروں پر بھی بات ہوئی۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر 11 کروڑ روپے کے بسکٹ کھانے کا الزام لگا، پورے وزیراعلیٰ ہاؤس کا خرچہ 11 کروڑ روپے ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا خرچہ 2 ارب روپے اور وزیراعلیٰ سندھ کا 1 ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا خرچہ صرف 11 کروڑ روپے ہے، وہ بھی میں نے خود پر خرچ نہیں کیے، زیادہ رقم وزیراعلیٰ ہاؤس کے کلاس 4 ملازمین کے کھانے پر خرچ ہوئی۔

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، جنید اکبر اور گنڈاپور آمنے سامنے

پشاور تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کھل کر.

..

ان کا کہنا تھا کہ پہلے سی ایم ہاؤس کے کلاس 4 ملازمین اپنے پیسے اکٹھے کر کے کھانا کھاتے تھے، میں نے کلاس 4 ملازمین کا کھانا سی ایم ہاؤس کے پیسوں سے کرایا، سی ایم ہاؤس اجلاسوں پر بھی اخراجات ہوتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افسوس ہے کہ مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے بھی مجھ پر الزامات لگا رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو جیل سے میں ہی نکالوں گا، سوشل میڈیا پر’فری بانی پی ٹی آئی‘ کے نام سے مہم چلائی جائے۔

مجھ پر خفیہ ملاقاتوں کا الزام ہے، میں نے کبھی خفیہ ملاقات نہیں کی، دریائے سوات واقعے میں ہیلی کاپٹر استعمال نہ کرنے پر تنقید کی گئی، میں تو ہیلی کاپٹراستعمال ہی نہیں کرتا، میں نے تو اسے عوام کے لیے وقف کیا ہے، سوشل میڈیا ٹیم سرگرم ہو جائے اور مخالفین کو بھرپور جواب دے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن خالد سپاری نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کے ساتھ ملاقات خوشگوار رہی، ملاقات میں سوات واقعہ، احتجاجی تحریک اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور سوشل میڈیا ٹیم کروڑ روپے پی ٹی آئی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی