سام سانگ کی جدید ٹیکنالوجی منظر عام پر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) سام سانگ کی جانب سے ایک اور جدید ٹیکنالوجی جاری کردی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے اپنے اسمارٹ فونز میںمزید اضافے کے ساتھ اینڈرائیڈ 16 پر مبنی ون یوآئی 8 بیٹا جاری کر دیا ہے۔ تاہم کمپنی کی جانب سے اینڈرائیڈ 15 پر مبنی ون یوآئی 7 کو مکمل طور پر ریلیز کیا جانا ابھی باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کورین کمپنی اپنی گلیکسی ڈیوائسز کے لیے ون یوآئی 7 کے اجرا کو بڑھا رہی ہے۔مذکورہ اپ ڈیٹ حاصل کرنے والی تازہ ترین ڈیوائس سام سنگ گلیکسی اے 06 فور جی ہے۔
واضح رہے کہ گلیکسی اے 06 فور جی کے لیے ون یوآئی7 اسٹیبل اپ ڈیٹ فرم ویئر کے A065FXXU4BYF6 ورژن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس کے لیے 3 جی بی کے قریب ڈاو¿ن لوڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ یوآئی کی تشکیلِ نو اور نئے فیچرز کو شامل کرنے کے لیے ون یوآئی 7 سے متعلق سام سنگ اے 06 فور جی میں مئی 2025ءمیں اینڈرائیڈ سیکورٹی پیچ جاری کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔