ایس آئی ایف سی نے معدنی وسائل، پالیسی اصلاحات اور خودکفالت کی جانب اہم قدم اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے دو سال مکمل ،معدنی شعبے میں شفاف پالیسیوں، سرمایہ کار دوست اقدامات اور تیز تر فریم ورک نے نئی جان ڈال دی جس کے نتیجے میں ملک میں قدرتی وسائل کے بہتر استعمال، مقامی و عالمی سرمایہ کاری اور خودکفالت کی راہ ہموار ہوئی.
ریکوڈک، سینڈک اور دیگر معدنی منصوبوں میں پیش رفت صنعتی خود انحصاری کی جانب بڑا قدم ہے، جسے سعودی عرب، چین، امریکہ اور کویت جیسے عالمی شراکت داروں کے تعاون سے مزید تقویت ملی.
مائننگ میں جدید ٹیکنالوجی، ریموٹ سینسنگ، اور شفاف ڈیجیٹل رجسٹریشن کے جدید طریقے متعارف کرائے گئے.ایس آئی ایف سی کی دو سالہ مربوط حکمت عملی معدنی شعبے میں ترقی، خودکفالت اور عالمی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ہے
پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔آئیے اس خصوصی رپورٹ میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایس آئی ایف سی نے قدرتی وسائل کو قومی ترقی میں بدلنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے
سی ڈی اے تحلیل کا فیصلہ چیلنج اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹسز جاری کرنے اور حکم امتناع سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔