تہران کے گنجان علاقے میں نہتے شہریوں پر اسرائیل کے ظالمانہ حملے کی فوٹیج وائرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
ماہ جون میں تہران میں ایک اسرائیلی حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں دل دہلا دینے والے مناظر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے حملوں سے اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، صیہونی اخبار کا اعتراف
تہران ٹائمز و دیگر کی جانب سے نشر کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے 15 جون کو تہران کے قدس اسکوائر پر میزائل حملے کے بعد تباہی مچتی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس میں بے گناہ شہری شہید ہوگئے تھے۔
#BREAKING
Video of Israeli airstrikes directly targeting a densely populated neighborhood in northern Tehran, hurling cars with passengers inside into the air.
— Tehran Times (@TehranTimes79) July 3, 2025
یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا اور جواب میں ایران نے اسرائیل پر شدید میزائل حملے کرکے اسے تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا تھا تاہم پھر امریکا کی مداخلت کے جنگ بندی ہوگئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران ایران پر حملے کی فوٹیج ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران ویڈیو وائرل
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔