ٹرمپ اور نتن یاہو کا قتل جائز ہے، حوزہ علمیہ تہران کا فتویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
فقہی بیان جس میں امریکی صدر کی جانب سے عالم تشیع کے مرجع اعلیٰ کو دھمکی دینے کی مذمت کیساتھ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو کافر حربی اور مفسد فی الارض قرار دیتے ہوئے ان کے لیے شرعی طور پر "مہدور الدم" اور "مفسد فی الارض" کا قطعی حکم صادر کیا گیا ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان دھمکیوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنے اور مزاحمت کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلمی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سے حوزہ علمیہ کے فقہاء نے شرعی حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کمینہ اور احمق ہے اور اس کا صیہونی ساتھی نیتن یاہو کافر حربی ہیں۔ یہ دونوں مفسد فی الارض، نسل کش، زمین کو ویران کرنیوالے ہیں، ان کا قتل جائز ہے۔
متن حسب ذیل ہے:
بِسمِ الّلهِ قاصِمِ الجبّارین، مُبیرِ الظالمین، مُدْرِکِ الْهَارِبِینَ.
«وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ﴿۲۰۴﴾ وَ إِذا تَوَلَّي سَعي فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فيها وَ يُهْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ وَ اللَّهُ لايُحِبُّ الْفَسادَ ﴿۲۰۵﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ» (البقرة:۲۰۴ـ ۲۰۶)
فریب خوردہ، ہذیان گو امریکی صدر کی یاوہ گوئی رکنے کا نام نہیں لے رہی، ایک بار پھر اس نے ہمارے دلوں کے سلطان، زعیم و حکیم امت اسلامی، عالم تشیع کے رہبر و مرجع شجاع آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی اہانت کرتے ہوئے انہیں دھمکی دینے کے لئے غلیظ زبان کو حرکت دی ہے۔ یہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے خلاف ہونے کے علاوہ، فیصلہ کن فقہی احکام کے منافی ہے۔ شرعی لحاظ سے ایسی مجرمانہ حرکت کا مرتکب آمر سبب اور عامل مباشر ہے، جو مفسد فی الارض اور مھدور الدم ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کمینہ اور احمق ہے اور اس کا صیہونی ساتھی نیتن یاہو کافر حربی ہیں۔ یہ دونوں مفسد فی الارض، نسل کش، زمینوں کو ویران کرنیوالے ہیں، ان کا قتل جائز ہے۔ یہ دونوں کئی جرائم جیسے «نُکث یمین، نقض عہد، محاربه، فساد في الأرض، اهلاک حرث» کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح «انسانی منابع کی تباہی، اسلامی سرزمینوں پر تجاوز، قبضہ، دھمکیوں، قتل و غارت، دہشت گردی، نسل کشی، ممتاز اسلامی شخصیات کے قتل، غیر مسلموں کی موت، بے بس فلسطینی، شامی، لبنانی، ایرانی بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور جوانوں سمیت دوسری کئی اقوام کے اجتماعی قتل» کے خلاف سنگین جرائم کی فہرست بھی اس میں شامل ہے۔
اگر اس امریکی مسخرے کی زبان سے نکلنے والے الفاظ اور احمقانہ حرکات عملی شکل اختیار کرتی ہیں، (جو ہرگز نہیں ہوگا کہ وَ اللهُ خیرٌ حافِظاً وَ هُو أرحَمُ الرّاحِمینَ)، اسلام احکام کے مطابق ولی امر مسلمین (حفظهالله) کے سربکف جانثار فدائی پورے خطے کو امریکی افواج، سفارتکاروں کے لئے بھڑکتی جہنم میں بدل دینگے، دنیا میں امریکیوں کو پناہ نہیں ملے گی۔
اس موقع پر ہم ان عظیم مراجع کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے امریکی صدر کے مضحکہ خیز الفاظ کے بارے میں فتویٰ اور واضح حکم جاری فرمایا، دیگر مراجع (دام ظلّہم) جو حکم شرعی صادر کرنے اور عالم اسلام کے فریضہ کا تعین کرنے کے درپے ہیں، مسلمانان عالم اس معاملے کے بارے میں ان کی فقہی آراء حاصل کرنے کے منتظر ہیں، کے سپاس گزار ہیں۔ تمام دنیا کے مسلمانوں، خاص طور پر غیرت مند، مومن اور بہادر نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ ہوشیاری سے کام لیں اور اسلامی رہنماؤں کے حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار رہیں۔ «فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» (البقرة: ۱۹۴)
دستخط کنندگان:
آیتالله سید علیاصغر هاشمي علیا، آیتالله علیاکبر رشاد، آیتالله محمدباقر تحریري، آیتالله حسن عالمي، حجتالاسلام و المسلمین حسینعلي سعدي، حجتالاسلام و المسلمین محمدجواد محمدی گلپایگاني، آیتالله سید باقر خسروشاهي، حجتالاسلام و المسلمین علیرضا تقوائي، حجتالاسلام و المسلمین جواد مجتهد شبستري، حجتالاسلام و المسلمین سید مصطفی حسینینسب. و جمعي دیگر. ششم محرمالحرام ۱۴۴۷ هجری قمري.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حجت الاسلام و المسلمین مفسد فی الارض امریکی صدر آیت الله
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔