یوم آزادی پر امریکی عوام کی خوشیوں میں برابر کےشریک ہیں؛ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی عوام اور قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر و سفارتی حکام کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے امریکی حکومتی حکام اور عوام کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، کہا کہ یوم آزادی پر امریکی عوام کی خوشیوں میں برابر کےشریک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کا یوم آزادی، قربانی اور جمہوریت کی عظمت کا مظہر ہے، آزادی انسان کی شناخت، خودمختاری اور وقار کی علامت ہے۔
کم سن بچی سوئمنگ پول میں ڈوب کر جاں بحق
محسن نقوی نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ترقی، اتحاد اور امن کے راستے پر گامزن ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام عالم میں پائیدار امن کے لئے مثالی کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں دیرینہ عالمی تنازعات حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں صدر ٹرمپ کا کردار ایک معتدل، بصیرت افروز اور دانشمند قیادت کی مثال ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعمیری کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں دیا تاریخی ظہرانہ پاک امریکہ تعلقات کی نئی بنیاد ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاک امریکہ تعلقات کو نئی جہت ملی اور باہمی تعاون مضبوط ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے لمحوں میں واشنگٹن کی متوازن حکمت عملی نے دوطرفہ تعلقات میں اعتماد و وقار میں اضافہ کیا۔
جی میل سمیت متعدد گوگل سروسز کے لیے اے آئی ہیلپرز کا فیچر متعارف
محسن نقوی نے کہا کہ 4 جولائی کا دن امریکی عوام کیلیے عزم، حوصلے اور اتحاد کی تجدید کا دن ہے۔ دعا ہے کہ امریکہ کا 249واں یومِ آزادی دنیا میں انصاف، آزادی اور امن کا نیا پیغام ثابت ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام محسن نقوی یوم آزادی نے کہا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔