بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس اور بینکوں کی چارجز میں ہوشربا اضافہ، حکومت نے وصولی شروع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جولائی2025ء)وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جولائی سے بینک ٹرانزیکشن پر اضافی شدہ ٹیکس کی وصولی شروع کردی ہے جہاں حکومت کی جانب سے نان فائلرز کیلئے بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق بینکوں نے بھی فائلرز و نان فائلرز کی تخصیص کا لحاظ رکھے بغیرٹیکسوں کے علاوہ بینکوں نے بھی اپنے شیڈول چارجز بڑھا دیئے ہیں تاہم اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق ون لنک نے یہ چارجز بڑھائے مگر انکا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔
بینکوں سے رقم نکلوانے پر نان فائلرز سے 0.6 فیصد سے بڑھا کر0.8فیصد کے حساب سے کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ بینکوں نے اے ٹی ایم ایف کارڈ فیس،ایس ایم ایس الرٹ فیس، دوسرے بینک کے اے ٹی ایم استعمال کی فیس میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
چارجز بڑھنے کے باعث بینک صارفین اور بینک عملے کے درمیان جھگڑے بڑھ گئے ہیں جس پر بینکوں نے شیڈول چارجز پر نظر ثانی کیلئے ون لنک سے رجوع کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے دیئے گئے نئے مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے نافذ ہوتے ہی عام عوام پر اسکے اثرات واضع ہونا شروع ہوگئے ہیں اور لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں ایک طرف ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی گئی ہے تو دوسری طرف بینکوں نے اپنے شیڈول چارجز بڑھا دیئے یہیں جس سے صارفین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق بینکوں کی جانب سے پہلے دوسرے بینک کے اے ٹی ایم کے استعمال پر چارجز اٹھارہ روپے سے بڑھا کر 23 روپے گئے تھے اور اب مزید اضافہ کرتے ہوئے 23 روپے سے بڑھا کر 34 روپے فی ٹرانزیکشن کردیئے گئے ہیں۔اسی طرح اے ٹی ایم کارڈ فیس میں سات سو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ایس ایم ایس الرٹ سروس فیس آٹھ سو روپے اضافے کے ساتھ بارہ سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے کردی گئی ہے،اس کے علاوہ کیش کائونٹر سے بذریعہ چیک رقم نکلوانے پر بھی ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔نان فائلرز کیلئے کیش کائونٹر کے ذریعے بیس ہزار روپے نکلوانے پر 522 روپے کی کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ نان فائلرز پرعائد صفر اعشاریہ چھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس بھی بڑھا کر صفر اعشاریہ آٹھ فیصد عائد کردیا گیا ہے اسی طرح بینکوں نے اے ٹی ایم کے ذریعے بینکوں سے رقوم نکلوانے کی بھی حد مقرر کردی ہے۔اسٹینڈرڈ ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے یومیہ پچیس ہزار روپے سے پچاس ہزار روپے تک اے ٹی ایم کے ذریعے نکلواسکیں گے اسی طرح پریمئم کارڈ رکھنے والے پانچ لاکھ روپے یومیہ تک جبکہ فارن ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے دو سو سے پانچ سو ڈالر کے برابر یومیہ رقوم نکلواسکیں گے۔ایک دن میں پچاس ہزار روپے سے زیادہ رقم نکلوانے پر خودبخود بینک اکائونٹ سے ٹیکس کٹوتی ہوجائے گی اس کے علاوہ انٹرنیشنل اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوانے پر یا تو نکلوائی جانے والی رقم کی شرح کے حساب سے فیس کی کٹوتی ہوگی یا پھر بینک کی مقرر کردہ فکس فیس کے حساب سے کٹوتی ہوگی اسکا انحصار بینک پر ہوگا کہ وہ فیس وصولی کا کونسا طریقہ اختیار کرتا ہے۔یکم جولائی سے نئے ٹیکس ریٹ اور بینک چارجز میں اضافے کے بعد سے صارفین اور بینک انتظامیہ کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث بینکوں نے شیڈول چارجز پر نظر ثانی کیلئے ون لنک سے رجوع کرلیا ہے بینکوں کا کہنا ہے کہ اس سے بینکنگ لین دین متاثر ہوگا اور کیش اکانومی کو فروغ ملے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے رقم نکلوانے پر اے ٹی ایم کے نان فائلرز سے بڑھا کر بینکوں نے ہزار روپے کے ذریعے اور بینک کے مطابق گئے ہیں روپے سے گیا ہے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔
جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔
یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے