لاہور سے سیالکوٹ جانے والی ریل کی بوگیاں کم پڑگئیں، مسافر چھت اور انجن پر بھی سوار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور:
شاہدرہ سے سیالکوٹ جانے والی لاثانی ایکسپریس کی بوگیاں کم پڑ گئیں اور مسافر چھت اور انجن پر سوار ہوگئے جبکہ زیادہ رش کی وجہ سے ریل کے اندر موجود کئی مسافر گرمی اور حبس کے باعث بے ہوش ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاثانی ایکسپریس کی بوگیاں کم اور مسافر زیادہ ہوگئےاور مسافروں نے جگہ نہ ملنے پر ٹرین کی چھت پر قبضہ کر لیا۔
ریل کے اندر موجود مسافروں میں ہاتھا پائی اور لڑائی جھگڑا ہوا اور ریلوے انتظامیہ مسافروں کے آگے بے بس نظر آئی۔
سیکڑوں مسافر جان خطرے میں ڈال کر ٹرین کی چھت پر سوار ہوئے، درجنوں مسافر ریل کے انجن پر بھی چڑھ گئے، متعدد گرمی اور حبس کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔
خیال رہے کہ لاثانی ایکسپریس براستہ ناروال سیالکوٹ جاتی ہے آج روانہ ہونے والی اس ٹرین میں بوگیاں صرف تین تھیں جبکہ مسافر 10 بوگیوں کے تھے، ریلوے انتظامیہ کو بار بار شکایات درج کروا دی گئیں لیکن ریلوے انتظامیہ نے بوگیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔