ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

یہ بات انہوں نے سابق امریکی ٹی وی میزبان اور معروف سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ ٹکر کارلسن نے ایرانی صدر سے براہِ راست سوال کیاکہ آیا انہیں لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی؟

یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ کا دوبارہ امکان نہیں، تہران سے اگلے ہفتے معاہدہ ہو سکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

اس سوال کے جواب میں مسعود پزشکیان نے واضح الفاظ میں کہا جی ہاں! اسرائیل نے یہ کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہا۔ میرا ایمان ہے کہ زندگی اور موت کا فیصلہ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

ایرانی صدر نے مزید کہاکہ وہ اپنی قوم اور وطن کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، اور ان کی حکومت کا ہر فرد ملکی دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے جذبے سے سرشار ہے۔

ٹکر کارلسن نے اس موقع پر دوسرا سوال کیاکہ صدر کو کیسے علم ہوا کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ جس پر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ جنگ کے دوران وہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کررہے تھے، اور اسرائیل نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے اس مقام کا سراغ لگا لیا۔ بعدازاں اسرائیلی افواج نے وہاں بمباری کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

انٹرویو میں ایرانی صدر سے یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ کیا ایران نے کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کسی منصوبہ بندی یا اس کی حمایت کی ہے؟ جس کے جواب میں مسعود پزشکیان نے دوٹوک انداز میں کہاکہ ایران نے کبھی بھی ٹرمپ پر کسی حملے کی حمایت نہیں کی، اور ایسی تمام خبریں محض اسرائیلی پروپیگنڈا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ بندی، کیا نیتن یاہو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا؟

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے تھے، تاہم بعد میں دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر ہوگیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایران اسرائیل جنگ ایرانی صدر جنگ کی تفصیلات مسعود پزشکیان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل جنگ ایرانی صدر جنگ کی تفصیلات مسعود پزشکیان وی نیوز مسعود پزشکیان نے ایرانی صدر اسرائیل نے کی کوشش کی

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں