جنگ سے قبل بھارتی پورٹ جانیوالا پاکستانی جہاز کہاں ہے؟ تفصیل سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان اور بھارت کی جنگ سے قبل بھارتی پورٹ کے لیے روانہ ہونے والا پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی ) کا جہاز اومان کی پورٹ پر موجود ہے۔
وزارت میری ٹائم کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت میں جنگ چھڑنے کی وجہ سے اومان پورٹ پر موجود پی این ایس سی کے جہاز پر کارگو محفوظ ہے۔
ذرائع کے مطابق پی این ایس سی انتظامیہ نے پاکستانی جہاز پر بھارتی کارگو غیر معینہ مدت تک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان پی این ایس سی کے مطابق جہاز چارٹر پر ہے، یومیہ بنیاد پر رقم مل رہی ہے۔
دوسری طرف امپورٹر کی جانب سے پاکستانی جہاز کو بھارتی پورٹ لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع وزارتِ میری ٹائم کے مطابق جہاز 3 مئی کو ملائیشین پورٹ سے بھارت کے لیے روانہ ہوا تھا، جنگ چھڑنے کے بعد کانڈلہ پورٹ جاتے ہوئے جہاز کے کیپٹن ریحان بیگ نے جہاز کا رخ اومان پورٹ کی طرف موڑ دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی این ایس سی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔