انسانی اسمگلرز کا نیا طریقہ واردات: جعلی فٹبال ٹیم سیالکوٹ سے جاپان پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوجرانوالہ:۔ گوجرانوالہ میں زمینی راستوں پر سختی کے بعد انسانی اسمگلرز نے نیا طریقہ واردات اپنا لیا۔ ایف آئی اے کے مطابق انسانی اسمگلرز 22 افراد پر مشتمل جعلی فٹ بال ٹیم سیالکوٹ ایئرپورٹ سے جاپان پہنچ گئی۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق دستاویز جعلی ثابت ہونے پر جاپان نے تمام افراد کو ڈی پورٹ کردیا، جبکہ اسکینڈل میں ملوث ملزم ملک وقاص گرفتار کرلیا گیا۔ حکام کے مطابق گرفتار ملزم نے گولڈن فٹ بال ٹرائل کے نام سے فٹ بال کلب کی رجسٹریشن کروائی اور 22 افراد سے فی کس 40 لاکھ روپے وصول کیے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق تمام افراد کو فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کی طرح تربیت دی گئی، پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے ساتھ رجسٹریشن کی جعلی دستاویز بنائی گئیں۔ حکام کے مطابق جعلی دستاویزات کے مطابق ملزمان کے جاپان کے ایک کلب سے فٹ بال میچ شیڈول تھے
ملزم نے وزارت خارجہ کے جعلی کاغذات بھی تیار کیے تھے۔ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ جنوری 2024ءمیں بھی فٹ بال ٹیم کے روپ میں 17 افراد کو جاپان بھجوایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حکام کے مطابق بال ٹیم فٹ بال
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔