روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف کو بھی برطرف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
روس(نیوز ڈیسک)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا، ساتھ ہی انہیں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے صدر کے خصوصی مندوب کے منصب سے بھی سبکدوش کر دیا گیا۔
میخائل بوگدانوف گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دونوں عہدوں پر فائز تھے اور روس کی مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے متعلق سفارتی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ او آئی سی سمیت بین الاقوامی اسلامی تنظیموں سےمتعلق امور بھی دیکھتے تھے۔
میخائل بوگدانوف شام، لیبیا اور خطے کے دیگر ممالک میں روس کے سفارتی مشن کی قیادت کرتے رہے ہیں۔
73 برس کےبوگدانوف 1974 سے سفارتی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں سن 2011 میں وزارت خارجہ کا نائب سربراہ اور سن 2014 میں صدر کا خصوصی مندوب مقررکیا گیا تھا۔
روسی صدارتی محل کی جانب سےمیخائل بوگدانوفMikhail Bogdanov کو برطرف کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل روسی صدر نے وزیر ٹرانسپورٹ رومن اسٹارووائٹ کو بھی عہدے سے برطرف کیا تھا جس کے چند گھنٹوں بعد ہی وزیر ٹرانسپورٹ رومن اسٹارووائٹ اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے۔
ماسکو سے خبر ایجنسی کے مطابق برطرف روسی وزیر ٹرانسپورٹ کی لاش ماسکو کے قریب واقع علاقے میں گاڑی سے ملی، لاش پر گولی کا زخم تھا۔
روسی تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ برطرف وزیر ٹرانسپورٹ نے ممکنہ طور پر خودکشی کی ہے۔
آج بروز جمعرات ملک بھر میں شدید بارش،طغیانی کا خطرہ،موسمیات
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میخائل بوگدانوف وزیر ٹرانسپورٹ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔