کراچی، ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پولیس کا برطرف اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 22 اے میں فائرنگ سے پولیس کا برطرف سپاہی زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
واقعے کے بعد زخمی اہلکار حمزہ سیال نے خود کو سی ٹی ڈی کا اہلکار سمیت متضاد بیانات دیئے جس کی اطلاع پر سی ٹی ڈی کے پولیس افسران معلومات حاصل کرنے کے لیے جناح اسپتال پہنچ گئے۔
سی ٹی ڈی افسر کے مطابق دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ حمزہ سیال ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے تھانے گذری میں تعینات تھا جسے کسی شہری پر فائرنگ کرنے کے الزام میں سال 2016 میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
زخمی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی 10 محرم کو شاہ لطیف ٹاؤں سے موٹر سائیکل چوری ہوگئی تھی جس کی رپورٹ تھانے میں درج کرائی تھی اور اپنی موٹر سائیکل کی معلومات کے لیے تھانے گیا تھا واپسی پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مجھ سے پرس اور موبائل فون چھین لیا جبکہ دوسری خریدی گئی نئی موٹر سائیکل چھیننے سے بچ گئی۔
زخمی شخص کو بائیں جانب پسلی پر گولی لگی تھی جو دوسری جانب سے پار ہوگئی تھی اس حوالے سے شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پیش آیا ہے جس کی فوری طور پر وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔