’کوئی محفوظ نہیں‘، مالی میں بڑھتی ہوئی پرتشدد صورتحال میں عام شہری اور غیر ملکی بھی لپیٹ میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
مالی میں شدت پکڑتی ہوئی پرتشدد لہر نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور ملک بھر میں عدم تحفظ میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کینیا میں خونریز مظاہروں کے دوران 16 افراد ہلاک
بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے مطابق مالی کے شمالی اور وسطی علاقوں میں شدت پسند گروہوں کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں، جن میں عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اغوا، قتل، اور مسلح جھڑپیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔
حالیہ حملوں میں غیر ملکی کارکن، امدادی اداروں کے اہلکار، اور سیاح بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایک سینیئر افسر نے بتایا کہاب یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں، چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی۔
سلامتی کی یہ خراب صورتحال اقوام متحدہ کے امن مشن کے جزوی انخلا اور ریاستی کمزور حکمرانی کے بعد مزید ابتر ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو مالی میں انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افریقہ اقوام متحدہ تشدت مالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افریقہ اقوام متحدہ مالی
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔