ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے سال 2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر 2 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار سے زائد ویڈیوز اپنے پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کر دیں۔ یہ انکشاف ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ 2025 کے دوران دنیا بھر میں 21 کروڑ 10 لاکھ 97 ہزار 307 ویڈیوز کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہٹائی گئیں، جو اپ لوڈ کی گئی کل ویڈیوز کا تقریباً 0.

9 فیصد بنتی ہیں۔ ان ویڈیوز میں سے 18 کروڑ 43 لاکھ سے زائد کو خودکار نظام کے تحت شناخت کر کے حذف کیا گیا، جبکہ مزید جانچ پڑتال کے بعد 75 لاکھ ویڈیوز کو بحال بھی کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک نے امریکا کے لیے نئی ایپ بنانے کی رپورٹس کو مسترد کردیا

ٹک ٹاک کے مطابق اس سہ ماہی میں حذف کی گئی ویڈیوز کا 99 فیصد مواد صارفین کی شکایت سے قبل ہی ہٹا دیا گیا، جبکہ 94.3 فیصد ویڈیوز کو پوسٹ کیے جانے کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے اندر پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں ویڈیوز کو فوری طور پر حذف کیا گیا، جہاں مجموعی طور پر 95.8 فیصد مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر پلیٹ فارم سے ہٹایا گیا، پاکستان میں اس عرصے کے دوران 2 کروڑ 49 لاکھ 54 ہزار سے زائد ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا گی۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹک ٹاک کو 90 دن کی مہلت، پابندی تیسری مرتبہ مؤخر

 رپورٹ میں بتایا گیا کہ حذف کی گئی ویڈیوز میں ایک بڑی تعداد ایسی تھی جن کا تعلق حساس یا بالغ موضوعات سے تھا، جو ٹک ٹاک کی پالیسی کے خلاف ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی ویڈیوز بھی شامل تھیں جن میں پلیٹ فارم کے تحفظ اور شائستگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی، یا پھر صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق پالیسیوں کو نظر انداز کیا گیا۔

کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ حذف کی گئی ویڈیوز میں قابلِ ذکر تعداد اُن مواد کی بھی تھی جو جھوٹ پر مبنی یا گمراہ کن معلومات پر مشتمل تھیں، جبکہ کئی ویڈیوز ترمیم شدہ میڈیا یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے 16 سالہ بیٹی کو قتل کردیا

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پلیٹ فارم پر محفوظ اور مثبت ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینے کے لیے جاری رہیں گے، تاکہ صارفین کو بہتر اور ذمہ دارانہ آن لائن تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اکاؤنٹ ڈیلیٹ پاکستان ٹک ٹاک کمیونٹی گائیڈ لائنز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکاؤنٹ ڈیلیٹ پاکستان ٹک ٹاک کی خلاف ورزی پلیٹ فارم کیا گیا کی گئی ٹک ٹاک

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا