گریس روڈ لیسٹر میں جمعرات کو ہونے والے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (WCL) 2025 کے آٹھویں میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز کی ناقابل یقین سنچری کی بدولت ساؤتھ افریقہ چیمپئنز نے انگلینڈ چیمپئنز کو باآسانی شکست دے دی۔

153 رنز کے نسبتاً آسان ہدف کے تعاقب میں ساؤتھ افریقہ چیمپئنز نے صرف 12.2 اوورز میں ہدف حاصل کر لیا۔

اے بی ڈی ویلیئرز نے انگلش باؤلرز پر بھرپور حملے کیے اور ہاشم آملہ کے ساتھ ناقابل شکست 153 رنز کی شراکت داری قائم کی، ڈی ویلیئرز نے جارحانہ کھیل پیش کیا جبکہ ہاشم آملہ نے محتاط انداز اپنایا۔

یہ بھی پڑھیں:

پاور پلے کے اختتام تک ساؤتھ افریقہ نے 80 رنز بنا لیے، جس میں لیام پلنکٹ کے ایک اوور میں پڑنے والے 21 رنز بھی شامل تھے۔ ڈی ویلیئرز نے صرف 19 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی جبکہ آملہ نے 17 گیندوں پر 14 رنز بنائے۔

41 سالہ ڈی ویلیئرز نے اپنی جارحیت جاری رکھی اور اننگز کے 10ویں اوور کی دوسری گیند پر سنگل لے کر صرف 41 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی، انہوں نے اپنی اننگز میں صرف 51 گیندوں پر 116 رنز بنائے، جس میں 7 چھکے اور 15 چوکے شامل تھے، ان کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ہاشم آملہ محض 29 رنز ہی بنا سکے۔

اس سے قبل انگلینڈ چیمپئنز نے ساؤتھ افریقہ کو 153 رنز کا ہدف دیا، جو ان کی مضبوط بولنگ کی بدولت ممکن ہوا۔ انگلینڈ کی جانب سے فل مسٹرڈ نے 33 گیندوں پر 3 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 39 رنز بنائے، جبکہ کپتان ایون مورگن نے 14 گیندوں پر 20 رنز اسکور کیے جس میں 2 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

مزید پڑھیں:

ساؤتھ افریقہ چیمپئنز کی طرف سے عمران طاہر اور وین پارنیل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025 کا یہ ٹورنامنٹ انگلینڈ کے چار میدانوں یعنی ایجبیسٹن (برمنگھم)، کاؤنٹی گراؤنڈ (نارتھمپٹن)، گریس روڈ (لیسٹر) اور ہیڈنگلے (لیڈز) پر کھیلا جا رہا ہے۔

ٹورنامنٹ میں بھارت، پاکستان، آسٹریلیا، انگلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز راؤنڈ روبن فارمیٹ میں مدمقابل ہوں گی، جبکہ سرفہرست 4 ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

یہ ٹورنامنٹ اپنی نوعیت کا دوسرا ایڈیشن ہے؛ اس سے قبل پہلا ایڈیشن 2024 میں ہوا تھا جس میں یوراج سنگھ کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے چیمپیئنز کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

کھیلی جانے والی ٹیمیں:

انگلینڈ چیمپئنز: فل مسٹرڈ (وکٹ کیپر)، ایان بیل، ایون مورگن (کپتان)، معین علی، روی بوپارا، ٹِم ایمبروز، سمت پٹیل، لیام پلنکٹ، اجمل شہزاد، اسٹورٹ میکر، دیمتری ماسکریناس۔

ساؤتھ افریقہ چیمپئنز: ژاک روڈولف، سارل اروِی، اے بی ڈی ویلیئرز (کپتان), جے پی ڈومنی، جے جے اسموٹس، مرنے وین وک (وکٹ کیپر), وین پارنیل، کرس مورس، ہارڈس ولجون، ڈوان اولیویئر، عمران طاہر۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے بی ڈی ویلیئرز جارحانہ جنوبی افریقہ سینچری محتاط ہاشم آملہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے بی ڈی ویلیئرز جنوبی افریقہ محتاط ہاشم ا ملہ ساؤتھ افریقہ چیمپئنز اے بی ڈی ویلیئرز ڈی ویلیئرز نے گیندوں پر

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف