راجستھان میں اسکول کی عمارت گرنے سے 4 بچے جاں بحق، 40 ملبے تلے دب گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
راجستھان کے ضلع جھالاواڑ میں جمعے کی صبح ایک سرکاری اسکول کی عمارت گرنے سے کم از کم چار بچے جاں بحق ہو گئے، جبکہ درجنوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ صبح تقریباً ساڑھے 8 بجے مانوہرتھانہ کے علاقے میں واقع پیپلوڈی گورنمنٹ اسکول میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: بھارت نے برطانوی خاندانوں کو غلط لاشیں بھیج دیں
حکام کے مطابق اس وقت اسکول میں تقریباً 40 بچے، اساتذہ اور عملہ موجود تھے جب یک منزلہ عمارت کی چھت اچانک منہدم ہو گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسکول کی عمارت خستہ حال تھی اور اس بارے میں متعدد شکایات پہلے ہی درج کرائی گئی تھیں۔ اسکول میں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔
جھالاواڑ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس امیت کمار نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا 4 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 17 زخمی ہیں۔
ان میں سے 10 بچوں کو جھالاواڑ ریفر کیا گیا ہے جن میں سے تین سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔
مقامی افراد نے موقع پر پہنچ کر ملبے تلے دبے بچوں، اساتذہ اور دیگر افراد کو نکالنے کی کوششیں شروع کیں۔ کم از کم چار JCB مشینیں بھی امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں خود ساختہ ریاست کا جعلی سفارتخانہ بے نقاب، ملزم گرفتار
ضلعی انتظامیہ کے افسران، بشمول ڈپٹی کمشنر اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی بچوں کے والدین اور رشتہ دار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
زخمی بچوں کو ابتدائی علاج کے لیے مانوہرتھانہ اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ شدید زخمیوں کو جھالاواڑ کے بڑے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول بلڈنگ بھارت حادثہ راجستھان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول بلڈنگ بھارت راجستھان
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔